فکرقائدؒ کا آئینہ داراَفسر : خصوصی تحریر شہزاد سید

فکرقائدؒ کا آئینہ داراَفسر
——————————————————————————————–تحریر : شہزاد سید
موجودہ حکومت کی پالیسوں سے عوام پریشان بھی ہیں لیکن جو بنیادی اہم مثبت فیصلے کیے جارہے ہیں اس کے اثرات اب آہستہ آہستہ نچلی سطح پر مرتب ہورہے ہیں پنجاب حکومت نے وہ انتظامی افسران جو ایمانداری ، انتظامی صلاحیتوں اور فر ض شنا سی کی وجہ سے شہرت رکھتے تھے ان کو عوامی خدمت کا فریضہ سونپ دیا اب وہ سیکرٹریٹ کی بجائے ہر ضلع میں اپنی صلاحیتیں منوانے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے حکومت کی یہ کوششیں ثمر آور دکھائی دے رہی ہیں اس کی ایک جھلک پنجاب کے تاریخی شہر حسن ابدال جو عظیم روحانی شخصیت سید حسن ولی قندھاری کے نام سے حسن ابدال اور سکھ مذہب کے روحانی پیشوا بابا گرونانک جی کی نسبت سے پنجہ صاحب کہلاتا ہے میں دکھائی دینے لگی ہے ماضی کی حکومتوں کی تعیناتی کی ترجیحات میں وہ آفیسر بھی شامل تھے جو کرپشن قبضہ مافیا کے سامنے بے بس تھے اور وقت گزارو نوکری سنوارو کی پالیسی پر کاربند رہتے تھے لیکن موجودہ حکومت نے اب اُن افسران کو انتظامی خدمت کا موقع دیا ہے جو صحیح معنوں میں عوامی خدمت سرانجام دے سکتے ہیں.
ماضی میں حسن ابدال میں صفائی، خوبصورتی، انتظامی رِٹ کا قائم کرنا ، محدود فنڈزکا صحیح استعمال ، سرکاری ملازمین کو راہ راست پر لانے جیسے اَمور کے بارے میں سوچنا بہت مشکل تھا یہ سحر حالیہ دنوں تعینات ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر راجہ عدنان کیانی نے یکسر توڑ دیاہے۔ راجہ عدنان کیانی اعلٰی تعلیم یافتہ ہیں وہ 2013 سے صوبائی محکمہ خوراک و صحت میں اورمختلف ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ کام کرکے کے اپنی انتظامی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں ۔ حسن ابدال میں انہوں نے وہ کام کر دکھایا ہے جو بڑے بڑے دبنگ نعرے مارنے والے نہ کر سکے ۔سیوریج ، واٹر سپلائی، سٹریٹ لائٹس حسن ابدال کے قدرتی چشموں کی حفاظت۔ محکمہ آثار قدیمہ کے ماتحت لالہ رُخ پارک کی تعزین و آرائش ،ناجائز تجاوزات کا خاتمہ جیسے اہم مسائل کو انھوں نے چیلنج سمجھ کر قبول کیا اور کم وقت میں شہرکے اہم مسائل کا جائزہ لے کربہترین منتظم کی حیثیت سے فیصلہ کرکے عملی میدان میں اُترآ ئے۔ سیوریج کا نظام اس قدر خراب تھا کہ تاریخی شہر بارش کے دن میں ہاکس بے کراچی کی شکل اختیار کر لیتا تھا شہری جب سیاست دانوں، انتظامی اہلکاروں و افسروں سے بات کرتے تھے تووہ مالی مجبوریوں حکومتی عدم دلچسپی سیاستدانوں کی دیگر ترجیحات کا ذکر کرکے اپنی نوکری پکی کرتے تھے۔ حسن ابدال کے عوام کچرے کے ڈھیروں اور بلدیہ کے لاڈلے ملازمین سے انتہائی پریشان تھے ۔
کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے اسسٹنٹ کمشنر نے حسن ابدال کی سالوں میں نہیں بلکہ دنوں میں کایا پلٹ دی وہ پارک جس کو تنگی کے نام سے یاد کیا جاتا تھا اس کو معصوم، بچوں خواتین کیلئے خوبصورت تفریح گاہ بنادیا اب یہ تنگی نہیں بلکہ حسن ابدال کا کشادہ خوبصورت چہرہ دکھائی دے رہا ہے۔شہر کے سیوریج کا نظام بہتر بنانے کے لیے سرکاری فنڈز کی ضرورت تھی۔ سابقہ کمشنر راولپنڈی صاحبزادہ جودت ا یاز کی ذاتی دلچسپی سے شہر کی سیوریج کے نظام کی بہتری کے لیے رقم کی منظوری دی تھی اس منصوبے کی نگرانی بھی موجودہ اسسٹنٹ کمشنرکے ذمہ آچکی ہے ۔ دن ہو یارات موجودہ اسسٹنٹ کمشنر بارہا شہر کی گلیوں متعلقہ اداروں اور ٹی ایچ کیو ہسپتال کا چکر لگاتے ہیں بعض اوقات تو وہ صبح نماز فجر سے پہلے سبزی و فروٹ منڈی اور ملازمین کی چیکنگ کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح ایک اور بڑا کام ایبٹ آباد موڑ سے جی ٹی روڈ پر خوبصورت لائٹوں اور پودوں کی تنصیب کا کام کیا گیا ہے جسے پنجاب، گلگت، بلتستان، خیبر پختونخوا سے آنے والے لوگ دیکھ کر اس تاریخی شہر اور اس کی خوبصورتی کا ذکر ضرور کیا کریں گے۔ کمال انتظامی صلاحیت یہ ہے کہ انہوں نے 25 لاکھ روپے کی کی کم سے کم عوامی مالی معاونت حاصل کرکے شہر کو ایک نئے خوبصورت موڑ پر لا کھڑا کیا ہے یقینا یہ ان کی کوشش ضلعی انتظامیہ ،عوامی تعاون کے بغیر ناممکن تھی۔ انہوں نے حکومت کے گرین اینڈ کلین پروگرام کے تحت شہر کے ہرگھر سے کوڑا کرکٹ اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کا بہترین پروگرام بھی دے دیا ہے اس سارے خدمت کے کام کے لیے موجودہ کمشنر راولپنڈی محمدمحمود اور ڈپٹی کمشنر عنان علی قمر بھی مبارک باد کے مستحق ہیں ۔میں ذاتی طور پر کمشنر راولپنڈی اور ڈپٹی کمشنر اٹک کا انتہائی شکر گزار ہوں انہوں نے بندہ ناچیز کی تجویز پر لالہ رُخ پارک کا اچانک دورہ کیااور اسسٹنٹ کمشنر حسن ابدال کے جاری تعمیری اقدامات کو بے حد سراہا جس سے نہ صرف انتظامیہ بلکہ شہریوں کا حوصلہ بڑھ گیا ۔ لوگوں میں احساس ذمہ داری بیدار کرنے کے لئے مقامی افراد کے تعاون سے تمام مسائل کو مرحلہ وار حل کیا جارہا ہے ۔شہریوں کی رائے میں یہ کام ناممکن تھا جوراجہ عدنان کیانی نے کر دکھایا ہے۔شہری بہت خوش ہیں۔ لالہ رخ پارک میں رونقیں لگ گئی ہیں.
حسن ابدال کے باسیوں کی حکومت سے درخواست ہے کہ وہ موجودہ اسسٹنٹ کمشنر کو حکومتی سطح پرفوری خصوصی گرانٹ دیں تاکہ جاری تمام منصوبے خوش اسلوبی سے مکمل ہوسکیں اسسٹنٹ کمشنر کو بھی چاہیے کہ وہ قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے حکام بالا کو مکمل اعتماد میں لیں،اور پنجاب حکومت سے خصوصی گرانٹ طلب کریں۔ اس سارے عمل کی شفاف اور ایماندارانہ طریقے سے تکمیل تک اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں عوامی رائے ہے کہ ان تمام ترقیاتی کاموں کے لیے مقامی ایماندار شخصیات پر مشتمل سب کمیٹی تشکیل دے دی جائے۔ جو ان تمام امور کی نگرانی اور اسسٹنٹ کمشنر کی معاونت کرے۔ لیکن امید ہے کہ حکومت کے مثبت فیصلوں سے ایسے افسران اپنی ذمہ داریاں بخوبی سرانجام دیں گے۔ میڈیا کو بھی چاہیے ایسے باصلاحیت افسران کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ اپنی بھرپور انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرسکیں۔
حسن ابدال کے شہری اس بات کو بخوبی سمجھ گئے ہیں کہ اگر کوئی انتظامی افسر مصمم ارادہ کر لے تو سب کچھ ہو سکتا ہے بشرطیکہ وہ انتظامی صلاحیتوں کا مالک بھی ہو۔راجہ عدنان کیانی نے شہر کی صفائی کے لیے چار آٹو رکشہ سٹریٹ لائٹس کے لئے نوے کے قریب بلب، لوگوں میں احساس ذمہ داری پیدا کرنے کے لیے لٹریچر، لالہ رُخ پارک میں بچوں کے لیے خوبصورت جھولے ،بجلی سے روشن ہونے والے فانوس ،دیدہ زیب گھڑیال، بلدیہ کے عملے کی نئے عزم سے ذہن سازی جیسے اہم امور سر انجام دیے ہیں سیوریج کے تباہ شدہ نظام کی بہتری کے لیے بنیادی خامیوں کو دور کر کے فعال کر دیا ہے حسن ابدال کے شہری موجودہ اسسٹنٹ کمشنر و منتظم بلدیہ کو اپنا غمگسار اور حسن ابدال کا شہری سمجھنے لگے ہیں۔ ۔
راجہ عدنان کیانی کی یہ سوچ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے حقیقی تصور اور منشاءکے عین مطابق ہے۔ حسن ابدال کے شہریوں کو قائداعظم کے افکار کی ایک جھلک اس ایماندار فرض شناس انتظامی اَفسرکی شکل میں دکھائی دی ہے۔ایسے اَفسروں کی خواہش بانیِ پاکستان شدید محسوس کرتے تھے۔قائداعظم محمد علی جناح نے اپریل 1948 میں پشاور میں سول سروسز کے افسران سے خطاب کے دوران فرمایا “اگر آپ پاکستان کے وقار اور عظمت کو بلند کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو کسی دباؤ کا شکار نہیں ہونا چاہئے بلکہ عوام اور ریاست کے خادم کی حیثیت سے نڈر اور ایمانداری کے ساتھ اپنا فرض ادا کرنا چاہئے۔اگر آپ اس عزم کے ساتھ خدمت کا آغاز کرتے ہیں توآپ ہمارے تصورات اور ہمارے خوابوں کی مانند ، ایک شاندار ریاست اور دنیا کی عظیم ترین قوموں میں سے ایک قوم بنانے میں اور پاکستان کی تعمیر میں ایک بہت بڑا حصہ ڈالیں گے”یقینََا راجہ عدنان جیسے اور آفیسر ملک بھر میں خدمت سر انجام دے رہے ہو ں گے۔لیکن موجودہ حکومت کو یہ اعزاز حاصل ہو ا ہے۔عوام توقع کرتے ہیں کہ اس جذبہ خدمت سے سر شارایماندار افسروں کو فیلڈ میں بھر پور طاقت اور حمایت کے ساتھ تعینات کیا جائے اور ان کی بھر پور تشہیر بھی کی جائے تاکہ قوم میں ماضی کی مایوسیوں کو اُمید میں بدلہ جاسکے۔
shahzadsyed12@gmail.com

فکرقائدؒ کا آئینہ داراَفسر : خصوصی تحریر شہزاد سید” ایک تبصرہ

  1. پاکستان کی ترقی میں ایسے ایماندار آفیسرز کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں