اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام آن لائن ڈاکٹر آصف فرخی ادبی ریفرنس کا انعقاد

اسلام آباد(سنہرادور): آصف فرخی مدیر، منتظم بھی تھے لیکن ان کا بنیادی حوالہ تخلیق کار کا ہے ان خیالات کا اظہار افتخار عارف نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام آن لان ڈاکٹر آصف فرخی ادبی ریفرنس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر یوسف خشک چیئرمین اکادمی نے ابتدائیہ میں آصف فرخی کے انتقال کو ناقابل تلافی قرار دیا۔ افتخار عارف نے کہا کہ اللہ نے آصف فرخی کو بہت ہنراورصلاحیت دی تھی جسے وہ بروئے کار لائے۔ ان کی ایک شخصیت افسانہ نگار، مدیر، استاد اورمترجم کی حیثیت سے نمایاں تھی۔ وہ ایک جامع شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی اتنی جہتیں تھیں ان جہتوں کو ملا کر ان کی ایک شخصیت بنتی تھی، ان میں سے کسی ایک کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ان کی ترجیح اول ادب تھی۔ انہوں رسالہ ”دنیا زاد “نکالا اور کامیابی سے چلایا، اس میں نئے لوگوں کو متعارف کرایا۔ دنیا بھر میں اردو کے لیے کام کرنے والوں کو پاکستان میں متعارف کرانا اور ان سے رابطہ رکھنا ان کا خاصہ تھا۔ دنیا میں کوئی کتاب ترجمہ ہو کر آتی تھی وہ اسے کسی نہ کسی صورت یہاں متعارف کرا دیتے تھے۔ آصف فرخی نے سندھی ادب اور ادیبوں کو اردو اور اردو ادیبوں اور ادب کو سندھی میں متعارف کرانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ آصف فرخی نے جس فیسٹول کا آغاز کیا اس میں خالص ادیبوں کو متعارف کرایا۔ انہوں نے بہت عمدہ افسانے تحریر کیے، اعلیٰ تراجم کیے اور ارو ادب کو دنیا میں متعارف کرانے کا بڑا کام کیا۔ تنقید کیے شعبہ میں انتظارحسین، حسن منظر، اسد محمد خان، محمد خالد اختر پر جو کام کیا وہ وقیع ہے۔ کرونا وائرس کے حوالے سے وہ اپنے رسالے کی تیاری کے لیے دینا بھرکے ادیبوں سے رابطہ میں تھے اور تحریریں جمع کر رہے تھے۔ فیسٹیول کے ذریعہ آصف نے اردو اور پاکستانی زبانوں کو قریب لانے اور بین الاقوامی سطح پر ادیبوں کو متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آصف فرخی مدیر، منتظم بھی تھے لیکن ان کا بنیادی حوالہ تخلیق کار کا ہے اور آیندہ وقت میں اسی کی بنیاد پر ان کی قدر وقیمت کا اندازہ ہوگا۔ ان کے انتقال سے ادب کو ایک بہت بڑا نقصان ہو گیا۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان نے ابتدائیہ میں کہا کہ ڈاکٹر آصف فرخی ہمارے عہد کے اہم تخلیق کار ہیں۔ پاکستانی ادب کے لیے ان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ آصف فرخی کی پاکستانی اردو اور انگریزی ادب میں افسانہ، تنقید، تحقیق، ترجمہ اور کالم نگاری میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ انہوں نے معتدد کتابوں کا ترجمہ کیا، کئی کتابوں کی تدوین اور تالیف کی ہے۔ وہ اخبارات کے لئے بھی لکھتے تھے۔ انہوں نے اکادمی ادبیات پاکستان کے معمار ادب سیریز کے لیے ”انتظار حسین: شخصیت اور فن“ تحریر کرنے کے علاوہ اکادمی کا انگریزی رسالہ “پاکستانی لٹریچر” بھی ایڈیڈ کیا۔۔ تعزیتی ریفرنس میں مسعود اشعر، ڈاکٹر سعادت سعید، یاسمین حمید، امینہ سید، انور سن رائے، عذرا عباس، حمید شاہد، ڈاکٹر تنویر انجم، ڈاکٹر ناصر عباس نیئر، حارث خلیق اور ڈاکٹر آصف فرخی کی صاحب زادی غزل آصف فرخی نے ڈاکٹر آصف فرخی کی شخصیت اور فن پر اظہار خیال کیا۔ نظامت ڈاکٹر سعدیہ طاہر نے کی۔ رابطہ کاری اور تکنیکی امور ڈاکٹر شیر علی نے انجام دیے۔ ڈاکٹر آصف فرخی کی صاحب زادی غزل آصف فرخی نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان کی یہ کاوش اور شرکائے کرام کی گفتگو ان کے لیے مرہم کا کام کر رہی ہے۔ ڈاکٹر آصف فرخی بہت ہی شفیق اور منفرد باپ تھے۔ مسعود اشعر نے کہا کہ ڈاکٹر آصف فرخی ہم عصر ادیبوں اور نقادوں میں سب سے زیادہ صاحب علم اور ادب کے شیدائی تھے۔ ڈاکٹر سعادت سعید نے کہا کہ ڈاکٹر آصف فرخی کی فکری پروان صوفیانہ ماحول میں ہوئی یہی سبب ہے کہ ان کی شخصیت اور فکرکی آبیاری صوفیانہ، عرفانی اور وجدانی کائناتی سفر کے ذائقوں کا مجموعہ ہے۔ عذرا عباس نے کہا کہ 1984 میں ڈاکٹر آصف فرخی کے افسانے پڑھے تو بے ساختہ آبدیدہ ہو گئی۔ ڈاکٹر آصف فرخی کے افسانے فنی عروج کے حامل ہیں۔ انور سن رائے نے کہا کہ ڈاکٹر فرخی بہت ہی زبردست اور پرجوش ادیب تھے۔ وہ بہت اچھے نقاد اور ’اپ ڈیٹ‘ ادیب تھے جو عالمی ادب کے علاوہ سندھی، بلوچی اور پشتو زبانوں میں تخلیق ہونے والے ادب سے بخوبی آگاہ رہتے تھے۔ وہ ادب میں ایک غیر معمولی شخصیت تھے۔ یاسمین حمید نےکہا کہ ڈاکٹر آصف فرخی کے ساتھ اکادمی ادبیات پاکستان کے رسال ”پاکستانی لٹریچر“ کا ایک شمارہ باہمی ادارت سے مدون کیا۔ اس علمی کام کے دوران ڈاکٹر آصف فرخی کا تحرک سامنے آیا کہ وہ کس تیزی سے علمی و ادبی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہچانے کا ملکہ رکھتے ہیں۔ امینہ سید نے کہا کہ ڈاکٹرآصف فرخی کی خواہش تھی کہ پاکستان میں جو ادیب اور ادب ہے اس کو فروغ دیا جائے، کسی طرح ادیبوں کو پلیٹ فارم اور شہرت ملے اور وہ اپنے قارئین سے ملاقات کریں۔ ان کی کوشش ہوتی تھی کہ ابھرتے ہوئے لکھاریوں کو سامنے لائیں۔ ان کا بس نہیں چلتا تھا کہ فیسٹیول میں سب کو بلا لیں۔ حارث خلیق نے کہا کہ وہ انگریزی اخباروں میں کالم نویسی کے علاوہ انٹرویوز بھی کرتے تھے۔ مختلف شخصیات کے انٹرویوز پر مبنی ان کی کتاب ’حرف من و تو‘ کے عنوان سے شائع ہوچکی ہے۔ ناصر عباس نیر نے کہا کہ ڈاکٹر آصف فرخی ہمارے عہد کے اہم لکھنے والوں میں سے تھے جنہوں نے فکشن اور تنقید میں میں بہت کام کیا۔ انتظار حسین پر اب تک کی سب سے اچھی لکھی ہوئی کتاب “چراغ شب افسانہ” ہی ہے۔ ادبی جریدے” مکالمہ“ کے مدیر مبین مرزا نے کہا کہ ڈاکٹر آصف فرخی مکمل لگن کے ساتھ ادب سے وابستہ رہے۔ یہی سبب ہے کہ انہوں نے افسانہ ، تراجم، تنقید اور ادارت میں انمٹ نقوش چھوڑے۔ محمد حمید شاہد نے کہا کہ آصف فرخی اسے فرد تھے جنہوں نے دنیا پھر کی کھڑکیاں اردو ادب پر کھول دیں۔ وہ دنیا بھر کے ادیبوں کے ساتھ رابطہ میں بھی تھے اور دنیا بھر کے ادب کو اردو میں منتقل کر رہے تھے۔ اردو میں لکھے جانے والے ادب کو دنیا میں متعارف کرا رہے تھے۔ دنیا کے ادب کو انہوں نے اپنے رسالے کے ذریعہ ہم تک پہنچایا۔ ڈاکٹر تنویر انجم نے کہا کہ ڈاکٹر آصف فرخی اردو زبان و ادب کے ایک بے مثال استاد تھے۔ اپنے وسیع علم اور مشفقانہ اندازِ تدریس سے طلبہ و طالبات میں ادب کا ذوق پیدا کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں