ہمارا ادب دنیا کی کسی بھی زبان کے ادب سے کم نہیں: نوشین جاوید امجد کا آنلائن مذکراہ سے خطاب

اسلام آباد (سنہرا دور): گذشتہ بیس برسوں میں اردو میں بہت عمدہ ناول لکھے گئے ہیں ۔ہمارا ادب دنیا کی کسی بھی زبان کے ادب سے کم نہیں۔اسے دنیا کی کسی بھی زبان کے ادب کے مقابلے میں پیش کیا جاسکتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہم ایک خاص طرح کی احساس کمتری کا شکار ہیں،انگریزوں نے ہم پر سو سال کے لگ بھگ حکومت کی اس لیے ہمارے لیے ہر وہ چیز اہم ہو گئی ہے جس کا تعلق مغرب سے ہو۔ادب کے معاملے میں بھی ہمارا رویہ اسی نوعیت کا ہے۔ یہ بات نوشین جاویدامجد،وفاقی سیکریٹری ،قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیراہتمام ہفتہ روزہ جشن آزادی تقریبات کے سلسلے میں منعقدہ آن لائن مزاکرہ ” آزادی اور اردو ناول کا بیانیہ” میں بطور مہمان اعزاز کیا۔ صدارت اصغر ندیم سید نے کی۔ مہمانان خصوصی ناصر عباس نیئر اورخالد محمودسنجرانی تھے۔شرکاءگفتگو ڈاکٹر طاہرہ اقبال، ڈاکٹر قاضی عابد، رفاقت حیات، محمد عاصم بٹ، ڈاکٹر اورنگزیب نیازی، ڈاکٹر سیفر حیدر اور دیگر نے مباحثے میں حصہ لیا۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین، اکادمی ادبیات پاکستان نے ابتدائیہ پیش کیا۔ نظامت ڈاکٹرمحمد نعیم نے کی۔

نوشین جاویدامجد نے کہا کہ انگریزی یا دنیا کی دوسری کسی زبان سے جب ہمارے ہاں تراجم آتے ہیں تو ہم ان کی طرف فوری طور پر متوجہ ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہماری نئی نسل کو پائلو کلہوتک کا پتاہے لیکن اسے قرۃ العین حیدر ، عبداللہ حسین جیسے لوگوں کا جو اب اردو میں کلاسیک کا درجہ اختیار کر چکے ہیں ان کے بارے میں اسے کوئی آگاہی نہیں۔اس کی صرف اور صرف وجہ یہ ہے کہ ہم نے انگریزی زبان کو علم کا معیار مان لیا ہے۔ ہم نے فرض کر لیا ہے کہ جو آدمی انگریزی میں لکھے گا، یا جس کا انگریزی میں ترجمہ ہوگا وہی بڑا ادیب ہوگا۔اس مغالطے کو دور کرنے کی بہت ضرورت ہے۔
ڈاکٹر یوسف خشک نے ابتدایئیہ میں کہا کہ ناول اس وقت دنیا کی مقبول صنف ہے۔ یہ ایک قدیم صنف ہے، اس کا اندازہ پچھلے پچاس برسوں میں ادب کے نوبل انعام یافتہ ادیبوں سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ اردو زبان میں بھی ناول ایک مقبول صنف کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اردو کا پہلا ناول 1869میں منظر عام پر آیا تھا۔ اردو ناول میں تخلیقی سطح پر بہت کام ہوا ہے لیکن تنقیدی اور تحقیقی سطح پر اتنا کام نہیں ہو سکا۔ اردو زبان کے ناولوں میں تحریک آزادی کے حوالے سے ہمارے سینئر نثر نگاروں کے متعدد ناول ملتے ہیںجنہیں عالمی سطح کے ادب کے ساتھ بلا خوف رکھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات نئی نسل کے ذہنوں میں راسخ کرنے کی ضرورت ہے کہ ادب کسی زبان کی وجہ سے چھوٹا بڑا نہیں ہوتا۔اس میں یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اس نے ایک انسانی صورت حال کو کس طرح پیش کیا ہے۔ بہت سے ادبی شہکار اب بھی موجود ہیں لیکن ان کی زبانیں معدوم ہوچکی ہیں۔ جہاں تک اردو ناول کی بات ہے تو ہمارے ہاں ناول بہت بعد میں آیا لیکن ایسا بھی نہیں کہ بہت کم لکھا گیا ہو۔اکادمی ادبیات نے حال ہی میں جو دوجلدوں پر مشتمل ناول نمبر شائع کیا ہے۔اس خصوصی نمبر کی دوسری جلد صرف اور صرف اکیسویں صدی کے ناولوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ گذشتہ بیس برسوں میں ہمارے ہاں اردو زبان میں بہت اچھے ناول لکھے گئے ہیں۔
وفاقی سیکریٹری ،قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن نے کہا کہ ڈاکٹر خشک نے بطور چیئرمین اکادمی کو متحرک کر دیا ہے۔ ہفتہ جشن آزادی کے اتنے پروگرامز کا انعقاد انھی کا حوصلہ ہے۔ہفتہ جشن آزادی کے حوالے سے ہونے والی تقریبات کے انعقاد پر اکادمی کو مبارک باد پیش کرتی ہوں۔

اصغر ندیم سید نے کہا کہ تحریک پاکستان، قیام پاکستان اور ہجرت کے حوالے سے اردو میں متعدد ناول شائع ہوئے ہیں اور ان ناولوں میں اردو ادب نے ایک خاص مقام بنایا ہے۔ نئے ناول نگار وں کے ہاں بھی تحریک پاکستان کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔

ناصر عباس نیئر نے کہاکہ سیاسی اور معاشی تبدیلیوں کے اثرات انسان پر پڑتے ہیں اور تخلیق کار ان کو شدت سے محسوس کرتا ہے۔ تحریک پاکستان ایک ایسی تحریک تھی جس نے لکھنے والوں کو متاثر کیا اور اسی تناظر میں اہم لکھنے والوں کے ناول اس موضوع پر سامنے آئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں