شادی کے حوالے سے ماں باپ کے کچھ غلط فیصلے ، ایک رہنما تحریر

تحریر: سید علی حمزہ رضوی

شادی فارسی زبان کا لفظ ہے، فارسی زبان کے اسم صفت شاد کے ساتھ لاحقہ کیفیت “ی” کے اضافہ سے لفظ شادی وجود میں آیا۔ یہ لفظ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے، اس کے لفظی معنی خوشی، مسرت اور انبساط کے ہیں
صحیح عمر میں نوجوانوں کی شادی ان میں سے اکثر مفسدات کی جڑ کاٹ دیتہے کم عمری کی شادی ایک پاکدامن معاشرے کو وجود میں لاتی ہے جہاں نفسیاتی طور پر مضبوط شخصیتیں پروان چڑھتی ہیں۔ صحیح عمر میں شادی چونکہ فطرت کی پکار کا جواب ہے۔ اس لیے بالخصوص یہ خوبصورتی کی اس مصنوعی شہوت رانی کا بھی خاتمہ کر دیتی ہے 18 سے 22 سال کی عمر کے ایک نوجوان میں ہارمونز پورے طور پر متحرک ہوتے ہیں جس کی وجہ سے بیوی کی حیثیت سے جو لڑکی بھی اس کی زندگی میں آئے گی وہ اس کے لیے قابل قبول ہو گی چاہے وہ عام شکل و صورت کی ہی لڑکی کیوں نہ ہو۔ اس کے بر خلاف اگر اس عمر میں شادی نہ ہو تو جسم کے اندر کام کرنے والے ہارمونز کے زیر اثر پیدا ہونے والے احساسات اس کے ذہن میں صنف مخالف کا ایک جعلی خاکہ بنالیں گے جو حقیقت سے بہت زیادہ دلکش ہوگا پھر وہ اپنے مصنوعی جنس مخلاف سے خیالوں میں رہے گا اور اسکو تلاش کرنے کیلئے ہر کام کاج سے بے سکونی کی کیفیت محسوس کریگا۔ اور اسکو حاصل کرنے کیلئے وہ کسی بھی حد تک جاسکتا ہے

نوجوانوں کی جلدی شادی پر بہت سے اعتراضات کئے جاتے ہیں۔ مگر یہ تمام اعتراضات لغو ہیں جو دین سے لاعلمی کی بنا پر یا نا سمجھی پیدا ہوتے ہیں۔ ان میں سے اکثر اعتراضات ماں باپ کی طرف سے یہ ہیں جو انتہائی غلط ہیں

1) جہاں نصیب میں لکھا ہوگا وہاں ہوجائے گی:

سب بڑی اور اہم غلطی ماں باپ کی طرف سے یہ ہی دیکھی جاتی جب وہ اپنے اولاد کا رشتہ کرنے کے بجائے ہاتھ پر ہاتھ رکھے اپنی اولاد کی عمر اور وقت ضائع کرتے اس بنی امیہ کے بنائے ہوئے نظریئے کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال لیتے ہیں. جب امام حسین کو شہید کیا گیا تب لوگوں میں بنی امیہ کے خلاف ایک نفرت کی لہر دوڑی تو بنی امیہ نے اپنے آپ کو بری الذمہ ٹہرانے کیلئے یہ عقیدہ گھڑ لیا کہ حسین کے ساتھ یہ ہونا تھا یہ اللہ نے انکے نصیب میں (یعنی تقدیر)لکھ دیا تھا اس لئے ہم نے نہیں مارا حسین کو بلکہ اللہ نے مارا ہے اس کے جواب میں امام زین العابدین نے کہا عبیداللہ ابن زیاد کو کہا کہ میرے والد کو تونے اور تیرے آدمیوں نے مارا ہے. اسی عقیدے کو امام ابوحنیفہ سے منسوب کتاب فقہ اکبر میں یہ لکھا گیا ہے کہ ہر اچھائی اور برائی اللہ کی طرف سے ہے خَیرِہِ وَ شَرِّہِ مِنَ اللّٰہِ تتَعَالٰ
یہ عقیدہ اب عام لوگوں میں اتنا رچ بس گیا ہے کہ ہر شخص کی زبان پر کثرت سے ملے گا گھر خریدنا ہو یا بیماری کا علاج کرانا ہو یا اپنے بچے کی شادی کرانا ہو یہ جملہ دہراتے رہتے ہیں اس کی لئے کوشش کرنے کو ترک کرکے یہ عقیدہ اپنا لیا ہے کہ جو نصیب میں لکھا ہے وہ ہوکر رہے گا۔ حالانکہ نصیب انسان کو خود لکھنا ہوتا ہے. اپنی کامیابی اپنی ترقی اپنی منزل کا حاصل کرنا یہ انسان کی اپنی کوششوں پر منحصر ہے جیسے ہی انسان کوشش کرنا چھوڑ دیگا ناکام ہوجائے گا. کامیابی حاصل کرنے کیلئے کامیابی کے رستے پر چلنا پڑتا ہے ماں باپ کے اوپر چھوڑ دیں گے تو کبھی کامیاب نہیں ہوسکیں گے.

2) جب جہاں جس سے لکھا ہوگا وہاں ہوجائے گی:

ماں باپ کی یہ غلطی اتنی عام ہے کہ اولاد کو پسند کی شادی کرنے سے بھی روک دیتی اور اور اسی فکر کی وجہ سے لڑکی یا لڑکا اپنی پسند کی نہ شادی کر پاتے ہیں اور نہ اسکا اظہار کر پاتے ہیں یہ بات سوچ کر کہ جہان جس سے اور جب لکھی ہوگی ہوجائے گی پھر اولاد کی غلط فہمی یہ کہ ماں باپ پر بھروسہ کرلیتی ہے کہ جہاں ماں باپ چاہیں گے وہی شادی کرلیں گے اس طرح بھی اپنی تقدیر کو خراب کرتے ہیں جبکہ اولاد اگر پڑھی لکھی تھی تو وہ ماں باپ سے زیادہ اپنے اچھے اور بہتر سوچنے سمجھنے کا شعور رکھتی ہے اسکے باوجود اپنی تقدیر ماں باپ کے ہاتھ میں دیکر برباد کرلیتی ہے. ایسے موقع پر اولاد کو چاہئے کہ اپنے فیصلہ خود کرے اور ماں باپ کو اپنے بہتر مستقبل کے بارے میں سمجھائے اور آگاہ کرے اور ماں باپ کو چاہئے کہ انکا ساتھ دے اور دعا کرے.
جبکہ خدا کہہ رہا ہے لَّیۡسَ لِلۡاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی
انسان کو وہی ملتا ہے جسکی وہ کوشش کرتا ہے
اگر انسان اپنی پسند کو حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو اسکو وہ ملے گا اور اگر کوشش نہیں کیرگا تو نہیں ملے گا. بہت سی جگہ پر ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کوشش کرتا ہے پر ماں باپ منع کردیتے ہیں اسی لئے اسکی ناکامی کے ذمہ دار ماں باپ ہی ہیں اللہ نہیں ہے

3) جو تقدیر میں لکھا ہوگا وہی ہوگا ہم اور آپ کچھ نہیں کرسکتے

یہ وہی عقیدہ ہے جسکی طرف اوپر اشارہ کیا. تقدیر قدر سے بنا ہے جسکا کا اصل مطلب چھپی ہوئی چیز ہے اور اسکا تعلق قضا اور قدر ہے اور اسکی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو مبرم و محتوم ہوتی ہے جو ٹل نہیں سکتی جسکے متعلق امیر المؤمنین کا ارشاد ہے تذل امور للما دیر حتی یکون الحتف فی االتدبیر”امور اس طرح تقدیر کے تابع ہوتے ہیں کہ کبھی تقدیر کے خلاف تبدیر استمال کرنے میں ہلاکت مضمر ہوتی ہے ”
اور دوسری غیر محتوم قدر جو دعا کرنے یا پکارنے یا دوسرے اسباب و وسائل اختیار کرنے سے ٹل جاتی ہے جیسا حدیث میں آیا ہے لا یرد البلاء الا صدقه ولا یرید القضا الا دعاء ترجمہ صدقہ کے صدقہ بلا کو ٹال دیتا ہے اور دعا قضا (فیصلہ) کو بدل دیتی ہے.
اس حدیث سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے اولاد کو اپنے فیصلے ماں باپ پر چھوڑ کر نہیں بیٹھ جانا چاہئے بالکل خود بھی کوشش کرنی چاہئے جیسا وسائل کی ایک
” حدیث میں آیا تھا کہ شادی کی کوشش کرنا مستحب عمل میں سے ہے”

4) ماں باپ کی اطاعت

قرآن میں صرف اللہ رسول اور اولی الامر کی اطاعت کا حکم آیا ہے اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک اور انکا شکریہ ادا کرنے کا کہا گیا ہے لیکن اطاعت کا حکم نہیں آیا ہے بلکہ اسکے برعکس قرآن میں آیا ہے
وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا
اور ماں باپ شرک کا حکم دیں تو انکی بات مت ماننا یعنی جب شادی کرنا واجب ہوجائے اور وہ کہیں کہ ابھی ہمارا پڑھ رہا ہے یا پڑھ رہی ہے اور اسکی عمر بھی کم ہے تو یہاں والدین اللہ کے مقابلے میں اپنا حکم دے رہے ہیں یہ شرک ہے یہاں نافرمانی کرنا واجب ہے. اسکے علاوہ اطاعت کا مفہوم وسیع ہے اسکا مطلب ایک یہ بھی ہے کہ بات مان لینا اور اگر ماں باپ امر بالمعروف میں کوئی بات کہہ رہے ہیں تو بات ماننی چاہئے اسکے علاوہ اگر شادی میں رکاوٹ ڈالتے ہیں تو نافرمانی کرنی چاہئے کیونکہ بالغ ہوتے ہی شادی کا حکم اللہ اور اسکے رسول نے دیا ہے اب اگر وہ منع کرتے ہیں تو وہ اللہ اور اسکے رسول کے مقابلے پر ہیں اس لئے ماں باپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ بالغ ہوتے ہی شادیاں کرائیں اور ناکری نہ لگنے تک انکی خرچے کی ذمہ داری اٹھائیں اور اولاد کا فریضہ یہ آپ کہ یہ طاعت ہمشہ اللہ اسکے رسول اور اوللا مر کی کرے جو وہ حکم دے اس پر عمل کریں

5) نوکری ملے تو شادی کرائیں

یہ ایک غلط ارادے اور فیصلوں میں سے یہ فیصلہ بھی ہے اس ملک میں یہ بات کہنا جس میں بےروزگاری کرپشن عام ہے. بیروزگاری یہ کسی ایک لڑکے کا مسئلہ نہیں ہے یہ ملک کا مسئلہ ہے. اگر ایک لڑکا بے روزگار ہےاورلڑکی روزگار پر ہے تب بھی شادیاں نہیں کی جاتی ہیں اس شرم کی وجہ سے بیوی کی تنخواہ کھائے گا. اور پھر بھی اگر لڑکا وقتیہ بےروزگار ہے تو وہ شرعی فقیر کہلائے گا شریعت میں فقیر کا مطلب ہے جسکے اخراجات اسکی آمدنی سے زیادہ ہوں مثلا ایک آدمی کی تنخواہ دس ہزار ہے مگر اسکے اخراجات بیس ہزار کے ہیں تو وہ دس ہزار کا فقیر کہلائے گا اس لئے صدقہ، خیرات، فطرات، خمس، زکواة، الفال فی سبیل اللہ اسی کا حق ہے اس سے بھی اسکا گزارا ہوسکتا ہے مگر ہم لوگوں نے صدقات کے نظام کو بھی بگاڑ رکھا ہے.
اس لیے میری آپ لوگوں سے گزارش ہے کہ ہم اپنے نظام کو خود بہتر بنانے کیلئے کوشش کریں دوسروں کے بھروسے پر زندگی گزارنا چھوڑ دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں