ٹاسک فورس

جامع مسجد حسین آباد کے قریب سے ہم بارات لے کر جارہے تھے ۔تقریباً رات کے گیارہ ہونے کو تھا اور بھوک سے میرا بارہ بج رہا تھا ایک طرف بارش کی چھم چھم آوازوں نے موسم کی رنگت اور حسن کو دوبالا کر رکھا تھا۔۔ کچھ جوان جامع مسجد چوک پہ جمع تھے کسی کے ہاتھ میں روغن کی ٹِن اور برش اور کسی کے ہاتھ میں فلیکس۔ جس پر “احتیاطی تدابیر اپناٸیں”لکھا ہوا صاف نظر آرہا تھا چونکہ دلہن ساتھ تھی اس لیے ہماری گاڑی کی رفتار کچھوے کی چال کی مانند تھی۔۔خیر ہم باراتی تھے آگے نکل گٸے ۔یوں ہم دولہا کے گھر پہنچ گٸے۔ اور یہاں بھی احتیاطی تدابیر والا بینر دیکھا جو کہ مین گیٹ پر چسپاں تھی۔پوری ہدایات پڑھنا چاہا مگر پٹاخوں کی آوازوں نے گھبراہٹ محسوس کی یوں ایک ہی لاٸن کو دو بار پڑھ کے میں آگے بڑھا۔ یہاں میں مختلف انواع و اقسام کے کھانوں سے خوب لطف اندوز ہوا۔یوں دوستوں اور عزیزوں سے گپ شپ بھی ہوٸ اور جب ہم باہر نکلے تو رات اپنی آخری پہر میں داخل ہورہی تھی مگر اس دفعہ موسلا دھار بارش ہورہی تھی۔۔باہر مہمانوں کے خاطر نوازی کرنے والے کارکنان کی دوڑ لگی ہوٸ تھی۔۔میں نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوٸے جلد بازی میں کسی درخت کی ٹہنی کے نیچے پناہ لیا۔۔ بس دو منٹ میں مکمل بھیگ گیا۔۔یوں مشکل سے ہم وہاں سے نکلے ۔واپسی پہ جب ہماری گاڑی جامع مسجد حسین آباد سے گزری تو یہاں اس تیز بارش میں جوانان حسین آباد اپنے کام میں مکمل مگن تھے۔۔ان جوانوں کو نہ بارش سے تنگ اور نہ موسم کا خوف تھا نہ نیند کی پرواہ اور نہ بھیگنے کا خوف۔۔بلکہ جزبات اور خدمات سے پر عزم تھے۔۔میں حیران رہ گیا اور ان جوانوں کو دل سے دعا دینے لگا۔۔ ان جوانوں کی حوصلہ افزاٸ کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں تھا فرط مسرت سے بھیگی ہوٸی جیب میں ہاتھ ڈالا تاکہ کوٸ انعام دے سکوں مگر یہاں میری جزبات پر پانی پھیر گیا۔۔ ایسا لگا روپیہ شریف کو کسی نے غسل دیا ہے چونکہ مزید کام بھی تھا اس لیے حسرت لے کر وہاں سے نکل گیا۔ان جوانوں کی عظمت اور ہمت کو سلام جو رات گٸے تک مشکل موسم میں بھی اپنا فرض نبھاتا رہا۔۔یہی جوان پورے حسین آباد میں کرونا ٹاسک فورس کے نام سے کام کرتے رہے اور خود کو خطروں اور مشکلوں میں ڈال کر قوم کی خدمت کے لیے گامزن رہے۔۔ یہاں مجھے اقبال رح کا ایک شعر یاد آرہا ہے کہ
نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا
کہ صبح و شام بدلتی ہے ان کی تقدیریں

ان جوانوں میں سر فہرست کاچو معراج، ناصر حسرت، سید امجد،سید حسن و دیگر جوانان جو ٹاسک فورس کا حصہ رہے اور اب بھی ہے سب کا یہاں نام لینا ممکن نہیں۔۔ہمارے ایک عزیز اکثر کہا کرتے ہیں ایسا ہونا ممکنٹیز Mumkinities میں نہیں خیر ان جوانوں کے دن رات محنت کی وجہ سے اس صورتحال پر کافی قابو پایا۔
اس موقع پر ان تمام جوانوں کا از تہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور ان تمام سرکردہگانوں اور ڈاکٹروں کا بھی شکریہ جنہوں نے خلوص دل کے ساتھ تعاون کیا۔۔
پاک صاف حسین آباد صاف صاف حسین آباد
تحریر: ایم سعید اکبری

اپنا تبصرہ بھیجیں