تاریخ کی بہترین خواتین کرکٹرز

لاہور: (دنیا میگزین) ہم ذیل میں تاریخ کی ان بہترین خواتین کرکٹرز کے بارے میں اپنے قارئین کو بتا رہے ہیں جنہوں نے تاریخ میں اپنا نام لکھوا لیا ہے۔

ایلاسی پیری

ان کا تعلق آسٹریلیا سے ہے جنہوں نے کرکٹ میں اپنے ملک کی نمائندگی کی۔ وہ اپنے ملک کی طرف سے فٹ بال بھی کھیلتی رہی ہیں۔ 3نومبر 1990کو پیدا ہونے والی ایلاسی پیری نے 15فروری 2008 کو انگلینڈ کے خلاف پہلا ٹیسٹ کھیلا۔ وہ دائیں ہاتھ سے فاسٹ باؤلنگ بھی کرتی تھیں۔ ایلاسی پیری ن ے اپنی آل راؤنڈ پرفارمنس سے آسٹریلیا کی خواتین کرکٹ ٹیم کو کئی میچ جتوائے۔ اس وقت ان کا شمار بہترین خواتین کرکٹرز میں ہوتا ہے وہ پہلی خاتون کھلاڑی ہیں جنہوں نے ٹی 20میچوں میں ایک ہزار رنز بنائے ہیں اور 100وکٹیں بھی اپنے نام کی ہیں۔ انہوں نے آسٹریلیا کی ایک اننگز میں سب سے زیادہ رنز (213)بنانے کا اعزاز بھی حاصل کیا ہے جبکہ ایک روزہ میچوں میں انہوں نے 150وکٹیں اپنے نام کی ہیں۔ انہوں نے کئی اعزازات بھی اپنے نام کئے ہیں۔ انہوں نے آٹھ ٹیسٹ میچوں میں 624رنز بنائے جبکہ 112ایک روزہ میچوں میں ان کا سکور 3022رنز رہا۔ اس طرح 118ٹی 20میچز کھیل کر انہوں نے 1197رنز بنائے ٹیسٹ میں ان کی اوسط 78رنز، ایک روزہ میچوں میں 52.10اور ٹی 20میں ان کی اوسط 28.50رنز رہی۔ باؤلنگ میں انہوں نے ٹیسٹ میچوں میں 31ایک روزہ مقابلوں میں 152اور ٹی 20میچوں میں 114وکٹیں حاصل کیں۔ ایلاسی پیری کا ریکارڈ خود ہی اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ وہ کتنے اعلیٰ درجے کی کھلاڑی تھیں۔

سوزی بیٹس

نیوزی لینڈ کی سوزی بیٹس 16ستمبر 1987کو پیدا ہوئیں۔ وہ نیوزی لینڈ کی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان رہ چکی ہیں۔ وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کر چکی ہیں۔ ان کی شہرت ان کی میڈم پیس باؤلنگ کی وجہ سے تھی۔ انہوں نے چار مارچ 2006کو بھارت کے خلاف پہلا ایک روزہ میچ کھیلا اور آخری ایک روزہ میچ جنوبی افریقہ کے خلاف تھا جو 30جنوری 2020 کو کھیلا گیا۔ اسی طرح سوزی نے دو مارچ 2020کو اپنا آخری ٹی 20 آسٹریلیا کے خلاف کھیلا۔ وہ دائیں ہاتھ سے بلے بازی بھی کرتی تھیں۔ ان کی خوبی یہ تھی کہ یہ بڑے میچوں میں زبردست صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتی تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سوزی نے 2008کے بیجنگ اولمپکس میں نیوزی لینڈ کی باسکٹ بال ٹیم کی نمائندگی بھی کی تھی لیکن پھر انہوں نے کرکٹ کی خاطر باسکٹ بال کو الوداع کہا۔ انہوں نے 115ایک روزہ اور 117ٹی 20میچز میں حصہ لیا۔ ایک روزہ میچوں میں انہوں نے 43.76رنز کی اوسط سے اور ٹی 20میچز میں 30.60رنز کی اوسط سے رنز بنائے۔ ایک روزہ میچز میں ان کا ایک اننگز میں زیادہ سے زیادہ سکور 168رنز رہا۔ اس کے علاوہ انہوں نے 74وکٹیں بھی اپنے نام کیں۔ انہوں نے ٹی 20میچز میں بھی ایک شاندار سنچری بنائی۔ وہ بہت عمدہ کرکٹر تھیں۔

میگ لیننگ

ان کا تعلق آسٹریلیا سے ہے۔ وہ 25مارچ 1992کو سنگاپور میں پیدا ہوئیں وہ اس وقت آسٹریلیا کی قومی خواتین کرکٹ کی کپتان ہیں۔ انہوں نے بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ دائیں ہاتھ سے بلے بازی اور دائیں ہاتھ سے ہی میڈم فاسٹ باؤلنگ کراتی ہیں۔ انہوں نے 11اگست 2013کو انگلینڈ کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا اور آخری ٹیسٹ بھی 18جولائی 2019کو انگلینڈ کے خلاف کھیلا۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں میگ لیننگ کی کارکردگی بہت متاثر کن ہے۔ انہوں نے چار ٹیسٹ میچوں میں 23.12رنز کی اوسط سے 185رنز بنائے جبکہ 80ایک روزہ میچز میں انہوں نے 3693رنز بنائے اور ان کی اوسط 52.75رنز ہے جو نہایت متاثر کن ہے۔ ٹی 20میچز میں انہوں نے اپنی مہارت کا خوب مظاہرہ کیا۔ انہوں نے 104ٹی 20میچز میں 36.20رنز کی اوسط سے 2788رنز بنائے۔ انہوں نے باؤلنگ میں بھی زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

متھالی راج

متھالی راج بھارت کی قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان ہیں وہ دائیں ہاتھ سے بلے بازی کرتی ہیں اور افتتاحی بلے باز کی حیثیت سے خاصی شہرت حاصل کر چکی ہیں۔ وہ 3دسمبر 1982کو جودھ پور (بھارت) میں پیدا ہوئیں۔ وہ اس وقت 37برس کی ہو چکی ہیں، انہوں نے پہلا ایک روزہ میچ 26جون 1999کو آئرلینڈ کے خلاف کھیلا جبکہ ان کا آخری ایک روزہ میچ ویسٹ انڈیز کے خلاف تھا جو انہوں نے 2019کو کھیلا۔ متھالی راج کا پہلا ٹیسٹ میچ 6نومبر انگلینڈ کے خلاف تھا جو 14جنوری 2002کو کھیلا گیا۔ اسی طرح انہوں نے انگلینڈ ہی کے خلاف اپنا پہلا ٹی 20میچ کھیلا۔ یہ میچ 2006کو کھیلا گیا۔ متھالی راج کو بھارت کی بہترین خاتون بلے باز قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے 10ٹیسٹ میچوں میں 51رنز کی اوسط سے 663رنز بنائے۔ انہوں نے ایک سنچری اور ایک ڈبل سنچری بنائی۔ اسی طرح 209ایک روزہ میچز کھیل کر متھالی راج نے 50.6رنز کی اوسط سے 6888رنز بنائے ایک روزہ میچوں میں ان کا زیادہ سے زیادہ انفرادی سکور 125رنز ناٹ آؤٹ رہا جبکہ 89ٹی 20میچوں میں متھالی راج کا سکور 2364رہا اور اوسط تھی 37.5رنز۔ ٹی 20میچز میں ان کا ایک اننگز میں زیادہ سے زیادہ انفرادی سکور 97رنز ناٹ آؤٹ رہا۔ یہ شاندار ریکارڈ واقعی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ متھالی راج بھارت کی بہترین خاتون بلے باز ہیں۔

میری زونے کیپ

میری زونے کیپ جنوبی افریقہ کی قومی کرکٹ ٹیم کی طرف سے کھیلتی ہیں وہ 4جنوری 1990ء کو پیدا ہوئیں اور اس وقت وہ 30برس کی ہو چکی ہیں۔انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ جنوبی افریقہ کی پہلی خاتون کرکٹر ہیں جنہوں نے خواتین کے ایک ٹی 20انٹرنیشنل میچ میں ہیٹ ٹرک کی۔
میری زونے کیپ نے 10مارچ 2009ء کو آسٹریلیا کے خلاف پہلا ایک روزہ میچ کھیلا۔ انہوں نے پہلا ٹی 20میچ بھی آسٹریلیا کی خلاف کھیلا۔کیپ نے صرف ایک ٹیسٹ میچ کھیلا جو بھارت کے خلاف تھا۔وہ دائیں ہاتھ سے میڈم فاسٹ بائولنگ کرتی ہیں اور دائیں ہاتھ سے ہی بلے بازی کے جوہر دکھاتی ہیں۔ وہ اپنی آل رائونڈر کارکردگی سے اپنی ٹیم کے لیے کئی کامیابیاں سمیٹ چکی ہیں۔انہوں نے ایک ٹیسٹ میچ میں 19رنز بنائے جبکہ 108ایک روزہ میچز میں ان کا سکور 1834رنز ہے۔اسی طرح وہ 78ٹی 20میچز میں حصہ لے چکی ہیں جس میں انہوں نے 946رنز بنائے۔میری زونے کیپ نے ایک روزہ میچز میں23.40رنز کی اوسط سے 123وکٹیں اپنے نام کیں‘ جبکہ ٹی 20میچز میں ان کی وکٹوں کی تعداد 58ہے۔جو انہوں نے 20.65رنز کی اوسط سے حاصل کیں۔

ثنا میر

پاکستان سے تعلق رکھنے والی ثنا میر آل رائونڈر ہیں اور انہوں نے کئی سال تک پاکستان کی قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کی ہے۔5جنوری 1986ء کو ایبٹ آباد میں پیدا ہونے والی ثنا میر پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان بھی رہ چکی ہیں۔انہوں نے 226بین الاقوامی میچز کھیلے ہیں جن میں سے 137میچز میں انہوں نے کپتان کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیے۔وہ پاکستان کی پہلی خاتون بائولر ہیں جنہوں نے ایک روزہ میچوں میں 100وکٹیں حاصل کیں۔2018ء میں انہیں آئی سی سی نے ایک روزہ میچوں کی نمبرون بائولر قرار دیا۔ 2010ء اور 2014ء میں ثناء میر نے ایشین گیمز میں پاکستان کی قیادت کی اور دو گولڈ میڈل جتوائے۔ ستمبر 2017ء میں بسمہ معروف کو ایک روزہ میچز کی کپتان بنا دیا گیا کیونکہ ثنا میر کپتانی سے دستبردار ہو گئی تھیں۔2008ء کے خواتین کرکٹ ورلڈ کپ کوالیفائنگ میچوں میں انہیں پلیئر آف دی ٹورنامنٹ قرار دیا گیا۔
ثناء میر نے 120ایک روزہ میچوں میں 17.91 رنز کی اوسط سے1630رنز بنائے۔انہوں نے تین نصف سنچریاں بھی بنائیں انہوں نے 106ٹی 20میچز میں حصہ لیا اور 14.07کی اوسط سے 802رنز بنائے۔بائولنگ کے میدان میں ثناء میر کی کارکردگی بہت متاثر کن رہی۔انہوں نے ایک روزہ میچز میں 24.27رنز کی اوسط سے 151وکٹیں حاصل کیں جبکہ ٹی 20میچز میں انہوں نے 23.42رنز کی واسط سے 89وکٹیں اپنے نام کیں۔ثناء میر کی ایک روزہ میچز میں بہترین کارکردگی 32رنز کے عوض پانچ وکٹیں ہیں۔ اسی طرح ٹی 20میچز میں انہوں نے ایک میچ میں 13رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔
23مارچ 2012 ء کو ثناء میر کو تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔ 25 اپریل 2020 کو ثناء میر نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی۔

سارا ٹیلر

ان کا تعلق انگلینڈ سے ہے۔ وہ 20مئی کو لندن میں پیدا ہوئیں۔ وہ وکٹ کیپر تھیں اور دائیں ہاتھ سے بلے بازی بھی کرتی تھیں اور وہ جاحانہ انداز میں کھیلتی تھیں۔ وہ کائونٹی کرکٹ بھی کھیلتی ہیں۔ یکم ستمبر 2006ء کو وہ ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 1000 رنز بنانے والی سب سے کم عمر خاتون بلے باز بن گئیں جب انہوں نے ٹانٹن میں بھارت کے خلاف 75 رنز ناٹ آئوٹ بنائے۔ سارا ٹیلر نے اپنی ٹیم کو کئی فتوحات دلوائیں۔ انہوں نے 9 ٹیسٹ میچز کھیلے اور19.66 کی اوسط سے295 رنز بنائے اور ان کی اوسط 39.18 رنزرہی۔ انہوں نے 89 ٹی 20 میچز میں 29 رنز کی اوسط سے2175 رنز بنائے۔ انہوں نے وکٹوں کے پیچھے بھی کئی کیچز پکڑے اور سٹمپ آئوٹ بھی کئے۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے سارا ٹیلر کو سال 2019ء میں مکمل سنٹرل کنٹریکٹ دیا۔جولائی 2019ء میں وومن ایشز سے پہلے سارا ٹیلر نے سکواڈ سے علیحدگی اختیار کر لی۔ وہ کچھ عرصہ کھیل سے دوررہنے کی آرزومند تھیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ذہنی طورپر فٹ نہیں تھیں۔ ستمبر 2019ء سارا ٹیلر خرابی صحت کی بناء پر بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ ورلڈکپ ٹورنامنٹ میں سارا ٹیلر اس کا حصہ تھیں اور انہوں نے انگلینڈ کی ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ 2014ء میں انہیں آئی سی سی کی بہترین خاتون کرکٹر قرار دیا گیا۔

سمریتی مندھانا

بھارت سے تعلق رکھنے والی سمریتی مندھانا18جولائی 1996ء کو ممبئی میں پیدا ہوئی۔ وہ بائیں ہاتھ سے بلے بازی اور دائیں ہاتھ سے میڈیم فاسٹ بائولنگ کرتی ہیں۔ وہ بڑی ذہین کرکٹر ہیں اور انہوں نے کیریئر کے شروع میں ہی یہ ثابت کر دیا کہ ان میں ایک بڑی کرکٹر بننے کی صلاحیتیں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ انہوں نے دو ٹیسٹ میچز کھیلے اور 27 کی اوسط سے 81 رنز بنائے، 51 ایک روزہ میچز میں انہوں نے 43.08 کی اوسط سے 2025 رنز بنائے جبکہ 74 ٹی 20 میچز میں سمریتی مندھانا نے 25.44 کی اوسط سے 1705 رنز بنائے۔ وہ ایک عمدہ فیلڈر بھی ہیں کرکٹ کے ناقدین کا خیال ہے کہ وہ آگے چل کر بہت عمدہ کرکٹ بنیں گی۔ انہوں نے اگست 2014ء میں اپنا پہلا ٹیسٹ میچ انگلینڈ کے خلاف کھیلا تھا۔ انہوں نے پہلی اننگز میں 22اور دوسری اننگز میں 51 رنز بنا کر اپنی ٹیم کو فتح دلانے میں معاونت کی۔ مندھانا نے آسٹریلیا کے دورے میں بھی شاندار کارکردگی کامظاہرہ کیا۔ انہوں نے ہوبارٹ میں کھیلے گئے ایک روزہ میچ میں 109 گیندوں پر 102 رنز بنائے۔

(تحریر : عبدالحفیظ ظفر)

اپنا تبصرہ بھیجیں