ادب، شاعری اور فنون لطیفہ کے میدان میں خواتین کا کردار بہت اہم ہے: صائمہ ندیم

اسلام آباد (سنہرا دور): ہماری حکومت معاشرے میں ادب، شاعری اور فنون لطیفہ کے ذریعے پرامن ماحول، برداشت اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنا چاہتے ہیں۔خواتین زندگی کے مختلف میدانوں میں ایک فعال کردار ادا رکررہی ہیں بلا شبہ بہتر معاشرے کی تشکیل میں خواتین کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان خیالات کا اظہارصا ئمہ ندیم، پارلیمانی سیکرٹری، وزارت بین الصوبائی رابطہ، نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے”تخلیقی ادب اور پاکستانی اہل قلم خواتین“کے موضوع پر منعقدہ سمینارمیں بطور مہمان خصوصی کیا۔صدارت ڈاکٹر شائستہ نزہت نے کی۔ ڈاکٹر ناہید قمرنے کلیدی مقالہ پیش کیا۔ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین ، اکادمی ادبیات پاکستان نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔بعدازاں ”پاکستانی زبانوں کا مشاعرہ‘ ‘ منعقد ہوا جس میںپاکستانی زبانوں کی نمائندہ شاعرات نے کلام پیش کیا۔صا ئمہ ندیم نے کہا کہ زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو پاکستانی خواتین نے ان میں نمایاں کام سرانجام دےے ہیں۔ شعبہ ادب میں بھی خواتین اہل قلم کسی سے پےچھے نہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی زبانوں کے ادب کے ذریعے خواتین کو یکجا کرنے کی ضرورت ہے ہم جن خواتین کے موضوعات پر بات کرتے ہیں ان کو اس کا پتہ ہی نہیں ہوتا۔ خواتین کو مرکزی دھارے میں لانے کی ضرورت ہے۔ادیب کا ایک لفظ، شعر اور کتاب سے آنے والی نسل کی زندگیاں بدل سکتی ہیں۔ ہمیں اپنی نئی نسل میں مثبت تبدیلیاں پیدا کرنے کے لیےمثبت سوچ اپنانے کی ضرورت ہے۔خواتین کے مسائل کے حل کے حوالے سے ہمیں من حیث القوم اپنی سوچ اور رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی۔تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس سے ہم معاشرے میں مثبت سوچ کو پروان چڑھا سکتے ہیں۔ خواتین کے حقوق تو آج سے 1400سال پہلے حضور نے طے کیے ہیں۔ ہمیں اُن کے حقوق کے حصول کے لےے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے جو سماجی سطح پر رخنہ اندازی کی وجہ سے پامال کےے جاتے ہیں۔ڈاکٹر شائستہ نزہت نے کہا کہ پاکستان کی عورتیں اب اپنے حقوق سے آگاہ ہوتی جار ہی ہیں اور اہلِ قلم خواتین کی ذمہ داری ہے کہ وہ عورتوں کے مسائل اور ان کے حل کے لیے لکھتی رہی۔ شعر و ادب کے میدان میں خواتین کامیابی سے اپنا سفر جاری رکھیں گی۔کستانی ادب، شاعری اور نثر دونوں اصناف میں عورتوں کے حقوق اور مسائل کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔خواتین زندگی کے مختلف میدانوں میں ایک فعال کردار ادا رکررہی ہیں بلا شبہ بہتر معاشرے کی تشکیل میں خواتین کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان ، نے کہا کہ پاکستانی ادب میں خواتین اہل قلم کی لکھنے والوں کی طویل روایت موجود ہے۔ ان خواتین میں بہت اہم اور معتبر نام شامل ہیں۔ زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو پاکستانی خواتین نے ان میں نمایاں کام سرانجام دےے ہیں۔ شعبہ ادب میں بھی خواتین اہل قلم کسی سے پیچھے نہیں ۔ اکادمی ادبیات پاکستان وقتاً فوقتاً اہل قلم خواتین کے حوالے سے تقریبات منعقد کرتی رہتی ہے۔سماجی ترقی میں خواتین اہل قلم کی تحریروں کا اہم حصہ ہے۔سماجی ترقی کے لےے کوشش ہوگی کہ ان اہل قلم خواتین کی تحریروںاور کاوشوں کواجاگر کیا جائے۔ صوفیہ یوسف نے کہا کہ پاکستان کی عورتیں اب اپنے حقوق سے آگاہ ہوتی جار ہی ہیں اور اہلِ قلم خواتین کی ذمہ داری ہے کہ وہ عورتوں کے مسائل اور ان کے حل کے لیے لکھتی رہی۔ڈاکٹر ناہید قمر ”تخلیقی ادب اور پاکستانی اہل قلم خواتین“کے موضوع پر مقالہ میں پاکستانی زبانوں میں لکھنے والی خواتین کی تحریروں کوزیر بحث لائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی اہل قلم خواتین کی تحریریں عالمی سطح پرپیش کی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے تمام موضوعا ت کا احاطہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں