دور حاضر کے لکھاری ڈرامہ لکھتے تہذیب بھولتے جارہے ہیں، انور مقصود

معروف ادیب و دانشور انور مقصود کا کہنا ہے کہ دورِ حاضر کے لکھاری ڈرامہ لکھتے ہوئے تہذیب بھولتے جارہے ہیں، صدر آرٹس کونسل احمد شاہ نے جس طرح آرٹس کونسل کو آباد کیا نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ پاکستان کو بھی ایسے ہی آباد کریں۔

ان خیالات کا اظہار معروف ادیب و دانشور انور مقصود نے کراچی آرٹس کونسل میں منعقدہ شامِ شگفتار انور مقصود اور شہزاد شرجیل کے ساتھ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، تقریب کا انعقاد آئی بی ایل اورسرل کے تعاون سےکیا گیا تھا۔

اس موقع پر انور مقصود نے اپنے مخصوص اندازِ بیاں میں جون ایلیاء، غالب اور داغ کے خط حاظرین کے گوش گزار کیے۔

انور مقصود نے اپنی بہن زہرا نگاہ کی نظمیں بھی پڑھ کر سنائیں۔

تقریب میں مزاح نگار شہزاد شرجیل نے مختلف موضوعات پر مبنی مزاح سے بھرپور اقتباسات پیش کیے۔ جس پر شرکاء کی جانب سے انہیں سراہا گیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر آرٹس کونسل احمد شاہ کا کہنا تھا کہ ماضی میں تہذیب و ثقافت کو بڑھانے والا کوئی ادارہ موجود نہیں تھا۔ ہم نے یہ بیڑا اُٹھایا اور اب آرٹس کونسل پاکستان کا سب سے بڑا ثقافتی ادارہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ کوشش ہے کہ آرٹس کونسل میں ملک کی پہلی فائن آرٹ یونیورسٹی کا قیام جلد ہی عمل میں لایا جائے۔

اس موقع پر سی۔ای۔او سرل ندیم احمد کا کہنا تھا کہ آرٹس کونسل طبقاتی نظام سے ہٹ کر طلباء کو پلیٹ فارم مہیا کر رہا ہے۔

تقریب کی نظامت کے فرائض شاہد رسام نے ادا کیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں