ایک فیصدی گلگت بلتستان کوٹہ کو ہم مسترد کرتے ہیں۔ واجد احمد خان صدر ایم ایس ایف سکردو

سکردو (سنہرا دور): پاکستان کی وفاقی سطح کی ملازمتوں میں اب گلگت بلتستان کو ایک فیصد حصہ ملا کرے گا. یہ اس حکومت کا کارنامہ ہے جو ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کر کے آئی تھی. عمران خان کی حکومت نے گلگت بلتستان کے نوجوانوں پر اعلی, پُرکشش انتظامی عہدوں کا درواذہ ہی بند کردیا ہے اس ظلم کو ہم نیں مانتے ہے
جب وفاقی ملازمتوں کی بات ہوتی ہے تو اکثر لوگوں کا ذہن صرف سی ایس ایس کی طرف جاتا ہے. گلگت بلتستان کے سی ایس ایس اسپائرنٹس تو ہیں ہی نا انصافی حکومت کے فیصلے پر مایوسی کا شکار, لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی. سی ایس ایس کے علاوہ بھی بے شمار ملازمتوں کے مواقع تھے جن کے دروازے عمران خان حکومت نے گلگت بلتستان والوں کیلئے مقفل کر دیا ہے. عمران خان نے خطہ بے آئین کے جوانوں سے یہ موقع بھی چھین لیا کہ وہ اپنی قابلیت منوا سکے۔
جہاں تک سی سی ایس کی بات ہے تو اب ہر سال گلگت بلتستان سے صرف 2 امیدوار ہی پاکستان کے سب سے بڑے مقابلے کے امتحان کو کولیفائی کر پائیں گے, حالانکہ پنجاب کے بعد سی ایس ایس میں سب سے تگڑا مقابلہ گلگت بلتستان کی سیٹوں کیلئے ہوتا ہے.
فاٹا اور جی بی کے کوٹے کو تقسیم کرنا ہی تھا تو کم از کم 2 فیصد کوٹا کا حقدار گلگت بلتستان بھی ہوتا, کیونکہ کوٹا سسٹم کا فلسفہ ہی یہی ہے کہ محروم علاقوں کو متناسب مواقع دیئے جائیں. لیکن یہ ریاست مدینہ ہے جس کے حکمران نوکری والوں سے نوکریاں اور نوکری پر لگنے کے لائق نوجوانوں سے نوکری کے مواقع چھین رہے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں