خواتین کے وارثتی حقوق کب ملیں‌ گے؟

’’ بھئی آپ تو اپنے گھرجائیں ، شادی کے بعد شوہر کا گھر نصیب ہو گیا ہے تو بی بی اُسی کو اپنا گھر سمجھو ۔ بھاگ بھاگ کر یہاں آنے کی ضرورت نہیں ، اب ہمارے بچے بھی بڑے ہو رہے ہیں ۔ یہ مکان ہم بیچ نہیں سکتے ، تمھارے بھیا کو کاروبار میں خسارہ ہوا ہے۔ وہ آج ہی مجھے کہہ رہے تھے کہ ہم خدانخواستہ تمھارا حصہ نہیں کھانا چاہ رہے لیکن حقیقت بھی تمھارے سامنے ہے ۔ اس لئے شمع تم اپنے حصے کا باربار تقاضا مت کیاکرو ۔‘‘

ہمارے معاشرے میں شمع جیسی بہت سی خواتین ایسی ہیں جنہیں اسلام میں خواتین کے لئے واضح حقوق متعین ہونے اور ایک اسلامی فلاحی ریاست کا شہری ہونے کی باوجود کوئی حقوق نہیں ملتے ۔ بلکہ الٹا اگر وہ اپنے وارثتی حقوق مانگ لیں تو ان سے باز پرس کی جاتی ہے کہ آخر انہیں یہ جرات ہی کیوں کر ہوئی ؟

اگرچہ کہ پاکستان کے قانون وارثت کی دفعہ 498 اے کے مطابق بیوہ اور کنواری تمام تر خواتین کو جائیداد کے حصول کے لئے حقوق دئیے گئے ہیں ۔لیکن قوانین کے لکھنے سے یہ مراد نہیں ہے کہ قوانین پر عمل بھی ہو رہا ہے ،قوانین کا اطلاق بھی چھوڑیں کہ ہوا یا نہیں ۔ سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ ایسے کون سے عوامل ہیں کہ جن کی بنا پر خاتون خود ہی جائیداد لینے سے انکار کر دیتی ہے یا باوجود احتجاج کے اس کا جینا محال کر دیا جاتا ہے۔

اس مہذب معاشرے میں اب بھی مائیں بیٹوں کو سروں کا تاج سمجھتی اور لڑکیوں کو بچپن سے ہی یہ سکھاتی ہیں کہ یہ تمھارا گھر نہیں بلکہ تمھارے شوہر کا گھر ہی تمھارا ہو گا ۔ یہاں تم مہمانوں کی طرح رہو جس کی وجہ سے ابتدا ہی سے لڑکیوں میں احساس کمتری جنم لیتا ہے اور وہ اپنے بھائیوں کو ہی گھر کا اصلی وارث سمجھ بیٹھتی ہیں۔

دور حاضر میں کئی گھروں میں گھر داماد کا بھی رواج چل نکلا ہے ، ایک بہن کی جب شادی الگ گھر میں ہوتی ہے اوروہ شوہر کے ہمراہ چلی جاتی ہے اور اگر باقی بہنیں گھر داماد وں کے ساتھ باپ کے گھر میں رہائش پذیر ہوں تو بہنوئیوں کی بھی مرضی ہوتی ہے کہ الگ رہنے والی سالی کم سے کم گھر میں آئے اور یہ کہ ہم ہی اس گھر پر اپنا قبضہ جمائے رکھیں یا حصہ لینے کے لئے اتنا دبائو ڈالیں کہ سالی خود بخود ہی الگ رہنے پر مجبور ہو جائے اور انھیں کچھ نہ کہا جائے۔

یہی صورتحال شادی شدہ خواتین کی زندگی میں بھی نظر آتی ہے کہ بیوہ ہونے کی صورت میں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ، ایک تو میکے والے بوجھ نہیں اٹھاتے کہ انہوں نے بس بیاہ کر اپنا فرض پورا کر دیا اور دوسری جانب سسرال والے خاوند کے بعد برداشت نہیں کرتے۔

حالانکہ پاکستان کے حق وارثت کے قانون میں درج ہے کہ خاتون کی چاہے شادی ہو یا نہ ہو، وہ بھائیوں کی موجودگی میں جائیداد کے آدھے حصے کی وارث ہے ، اسی طرح اگر ایک بیوہ عورت، شوہر کے مرنے کے بعد دوسری شادی کرتی ہے تو وہاں بھی ناقابل واپسی، جائیداد کی مالک ہے۔

اگر کوئی بیوہ شوہر کے مرنے کے بعد سسرال میں نہیں بھی رہتی پھر بھی وہ خاوند کی جائیداد کی وارث ہے ، اگر مرنے والے کی کوئی اولاد نہیں ہے تو بیوہ کو کل جائیداد کا چوتھا اور اگر اولاد ہے تو ایک بٹا آٹھ حصہ ملتا ہے ۔بیوہ اور کنواری دونوں خواتین وارثت میں ملنے والی جائیداد فروخت بھی کر سکتی ہیں ۔

لیکن ان سب تحریری قوانین کی باوجود خواتین کورٹ کچہریوں کے چکر ہی کاٹتی رہتی ہیں ۔خواتین کی جائیداد سے متعلق قانون سازی کے بارے میں حالیہ اقدام ایک ایکٹ کی صورت میں سامنے آئے ہیں جو گذشتہ سال ۲۰۱۹ میں مئی کے مہینے میں پیش کیا گیا تھا ، اس ایکٹ کو ’’ انسفورسٹ ویمنز پراپرٹی ایکٹ ۲۰۱۹ ‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔

مذکورہ ایکٹ کے تحت کوئی بھی خاتون جسے اسکی وارثتی جائیداد سے محروم کر دیا گیا ہو وہ خود یا اسکی جانب سے کوئی دوسرا شخص محتسب کے پاس تحریری درخواست جمع کروا سکتا ہے ۔ محتسب کے پاس اس مسئلے کے حل کے لئے وہ تمام تر اختیارات ہوں گے جو وہ ملازمت کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے سے متعلق قوانین کے اطلاق کے لئے استعمال کر سکتا ہے ۔

جائیداد سے متعلق جان نشینی سرٹیفیکٹ پہلے سیشن کورٹ دیتی تھی لیکن اب نادرہ کا ادارہ ۱۵ دن کے اندر جاری کرے گا جس سے جائیداد کی منتقلی کے عمل میں آسانی پیدا ہو گی کیونکہ خواتین سول کورٹ کے چکر لگا لگا کر تھک جاتی تھیں اور ان کی دادرسی کوئی نہ کرتا تھا ۔

اب وارثتی انتقال کے لئے ورثا کے شناختی کارڈ اور ب فارم لازمی قرار دئیے گئے ہیں تاکہ جعلی کاغذات نہ بن سکیں۔ جائیداد پر قبضے یا نہ دینے کی صورت میں محتسب پہلے تمام تر شکایت کا جائزہ خود لے گا اور ابتدائی شکایت کے بعد مزید تفتیش کی ضرورت ہوئی تو متعلقہ ڈپٹی کمشنر کی خدمات حاصل کی جائیں گی جو ۱۵ دن کے اندر اند ر اور ضروری معلومات اکٹھی کر کے محتتحب کے پاس جمع کروائے گا ۔

جب جائیداد کی منتقلی کی بات آئے گی تو محتسب ڈپٹی کمشنر کو ہدایات جاری کر سکتا ہے کہ وہ پولیس کے انچارج کو بھی طلب کرلے ۔ تاہم یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ محتسب زیادہ تر ایسے جائیداد کے معاملات کو ہی دیکھے گا جبکہ کسی بھی عدالت میں مذکورہ جائیداد سے متعلق زیر التوا نہ ہوں ۔

دیکھا جائے تو اس ایکٹ کے تحت محتسب کے اختیارات میں بہت اضافہ کیا گیا ہے لیکن ریاستی قوانین کی درستگی اس لئے کارآمد ثابت نہیں ہو سکتی کہ عموما ہماری اسمبلیوں میں زیادہ تر جاگیر دار طبقہ موجود ہے جوکبھی نہیں چاہتا کہ خود ان کے اپنے گھر کی خواتین بھی خود مختار ہو جائیں ۔

دوسری طرف ہمارا معاشرہ اور اسکے کئی فرسودہ اصول اکیسویں صدی میں لڑکیوں کو ان کے ظالم بھائیوں اور بہنوئیوں کے شر سے نہیں بچا سکتے اور وہ رعب جما کر ان سے ان کی جائیداد ہتھیا لیتے ہیں ۔ ہم شاید صرف نام کے اسلامی معاشرے میں رہتے ہیں جہاں خواتین سے جھگڑا کر کے ان پر رعب جما کے ان کو اور بھی کمزور بنا دیا جاتا ہے ۔ یہ ظلم کرنے والے افراد یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالی کی لاٹھی بے آواز ہوا کرتی ہے اور وہ صرف ظالموں کی رسی دراز کرتا ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

(راضیہ سید)

اپنا تبصرہ بھیجیں