ایران ایٹمی معاہدے کی پاسداری کررہا ہے۔آئی اے ای اے

واشنگٹن: بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران 2015 کے ایٹمی معاہدے کی ابھی تک پاسداری کررہا ہے۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے ) نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ عالمی سمجھوتے میں جس سطح تک یورینیم کی افزودگی، افزودہ یورینئم کو ذخیرہ کرنے سمیت جو دیگر سرگرمیاں طے کی گئی تھیں، ایران نہ صرف ان پر عمل کررہا ہے بلکہ متعینہ حدود کا پابند بھی ہے۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی جانب سے یہ بات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ یکطرفہ طور پر ایران اور دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے سے ڈیل ختم کرکے علیحدگی اخیار کرچکا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر خلاف ورزیوں کا الزام لگا کر ڈیل یک طرفہ طور پر آٹھ مئی کو ختم کردی تھی۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے اضافی پروٹوکول کے تحت ایران کی تمام سائٹس کا جائزہ لیا۔ امریکی ادارے وائس آف امریکہ نے انکشاف کیا ہے کہ اقوام متحدہ نے معائنے کی لازمی رسائی کو محدود کرنے پر ایران کی سرزنش بھی کی ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ آنے والے دنوں میں ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ایران کے ساتھ معاہدے میں شامل دیگر پانچ ممالک برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین اور روس عالمی برادری کو یقین دلارہے ہیں کہ وہ سمجھوتے کی حمایت جاری رکھیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں