ایران میں حکومت مخالف مظاہرے، 12 افراد ہلاک

تہران: ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں میں مزید 10 افراد ہلاک ہوگئے جس کے بعد 28 دسمبر کو شروع ہونے والے احتجاج میں ہلاکتوں کی تعداد 12 ہوگئی۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق 31 دسمبر کی شب بھی ایران کے مختلف شہروں میں مہنگائی کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا اور اس دوران پرتشدد جھڑپوں 10 افراد ہلاک ہوئے۔

ایران کے سرکاری ٹی وی میں نشر ہونے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ اتوار کے روز ہونے والے مظاہروں میں تقریباً 10 افراد ہلاک ہوئے اور متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔

ہلاک ہونے والے افراد کی مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں جبکہ صوبہ لوریستان کے گورنر کے نائب سیکیورٹی آفیسر حبیب اللہ نے بتایا کہ دورود کے علاقے میں دو افراد ہلاک ہوئے تاہم پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو گولی نہیں چلائی۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ان مظاہروں میں اب تک ملک بھر سے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔ گزشتہ روز ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا تھا کہ شہریوں کو احتجاج کا حق حاصل ہے تاہم تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

امریکا کی حمایت
اس سارے معاملے میں امریکا نے کھل کر مظاہرین کی حمایت کی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر بیان جاری کیا۔

ایران کے حوالے سے اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اوباما انتظامیہ کی جانب سے ایران سے کیے جانے والے بدترین معاہدے کے باوجود وہ ہر سطح پر بری طرح ناکام ہورہا ہے۔ ایران کے عظیم لوگوں کو کئی برسوں سے دبا کر رکھا گیا ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایرانی عوام خوراک اور آزادی کی متلاشی ہے، اس کے ساتھ ساتھ ان کی دولت اور انسانی حقوق پر بھی ڈاکہ ڈالا جارہا ہے، یہ وقت تبدیلی کا ہے۔

اس سے قبل بھی ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر ٹوئٹس کی تھیں جن میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ ایران میں مظاہرے ہورہے ہیں، لوگوں کو شعور آرہا ہے کہ کس طرح ان کا پیسہ چرایا جارہا ہے اور دہشت گردی میں استعمال کیا جارہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اب وہ اسے مزید برداشت نہیں کریں گے، امریکا ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو باریکی سے دیکھ رہا ہے۔

امریکا کی جانب سے مظاہرین کی حمایت پر ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا تھا کہ ایرانی قوم کو دہشت گرد کہنے والے کس منہ سے مظاہرین کی حمایت کررہے ہیں۔

مظاہروں کا پس منظر
28 دسمبر کو سب سے پہلے ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جہاں لوگوں نے حکمرانوں کو اپنی ابتر حالت کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا اور کہا تھا کہ ملک کی اقتصادی تنگیوں کی وجہ حکمرانوں کی مبینہ کرپشن ہے۔

اس کے بعد احتجاجی ریلیوں کا سلسلہ دارالحکومت تہران سمیت دوسرے شہروں تک بھی پھیل گیا تھا۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر متعدد ویڈیوز منظر عام پر آنے لگی تھیں جس میں مظاہرین صدر حسن روحانی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے تھے۔ حکومت نے مزید انتشار سے بچنے کے لیے عارضی طور پر سوشل میڈیا پر پابندی عائد کردی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: سنہرادور ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@sunehradaur.com پر ای میل کرسکتے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں