بھارت کا 100 سال سے مسلسل آگ اگلنے والا جہنم

یہ جہنم اصل میں معدنیات کی ایک کان ہے جو60 فٹ بلند شعلوں کے ساتھ مسلسل 100 سال سے آگ اگلے جا رہی ہے۔ جو بجھنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے ۔ یہ معدنی کان بھارتی ریاست جھاڑکھنڈ کے ضلعے دھنباد میں واقع جھاڑیا میں پائی جاتی ہے جس کا شمار بھارت میں کوئلے کی سب سے بڑی کانوں میں ہوتا ہے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ جگہ مسلسل 100سال سے دہک رہی ہے۔جھاڑیا میں کوئلے کی کان کا بلاک لگ بھگ ایک سو مربع میل پر پھیلا ہوا ہے جہاں انیسویں صدی کے آغاز میں انگریزوں نے کوئلہ نکالنا شروع کیا تھا۔ پھر 1916 میں یہاں پہلی آگ بھڑک اٹھی اور 1980 تک 70 مختلف مقامات پر آگ لگ چکی تھی جسے اب تک نہیں بجھایا گیا ہے۔

توقع کی جارہی تھی کہ آگ ازخود بجھ جائے گی لیکن 1973 میں یہ امید بھی دم توڑگئی۔2017 ریاستی کوئلہ اتھارٹی کے ذیلی ادارے بھارت کوکنگ کول لمیٹڈ (بی سی سی ایل)نے اوپن کاسٹ کان کنی شروع کی جو کوئلے کی بڑی مقدار حاصل کرنے کا ایک آزمودہ طریقہ بھی ہے۔ امید تھی کہ اس طرح کوئلے سے دہکتی ہوئی آگ ختم ہوجائے گی لیکن اس کا الٹا نتیجہ نکلا۔

قبل ازیں مقامی اور غیرتربیت یافتہ مزدور پہلے ہی جگہ جگہ سرنگیں کھو چکے تھے جن سے سرنگیں وجود میں آئی تھیں۔ ان سرنگوں سے سارا کوئلہ نکال لیا گیا تھا لیکن کچھ مقدار موجود تھی۔ جب کمپنی نے اوپن کاسٹ مائننگ شروع کی تو اندر ہوا نے اپنا راستہ بنالیا اور آگ مزید بھڑک اٹھی۔اس کے بعد کوئلے کی کان سے 60 فٹ بلند شعلے بھی دیکھے گئے اور کوئلہ جل جل کر آگ ہوتا چلاگیا۔

اندازہ ہے کہ ان کانوں میں اب تک 3 کروڑ 70 لاکھ ٹن کوئلہ جل چکا ہے جس کی قیمت اربوں ڈالر ہے۔ جبکہ نیچے موجود قریبا ڈیڑھ ارب ٹن کوئلہ پہنچ سے دور ہوگیا کیونکہ اوپر آگ کا راج ہے۔ اب بھارتی وزیرِاعظم نریندرمودی اور موجودہ حکومت نے اس مسئلے کو حل کرنے کی بجائے صرف اس سے کوئلہ نکالنے پر اکتفا کیا ہے اور وہ آگ بجھانے کی بجائے کوئلہ نکالنے کے لیے بے چین ہیں۔

جھاڑیا کے قریبی گاوں بھلن بریری میں رہنے والے لوگ اس علاقے کو جہنم کہتے ہیں۔ مقامی باشندے محمد نسیم انصاری نے بتایا کہ زمین اتنی گرم رہتی ہے کہ جوتوں کے ساتھ وہاں چلنا ناممکن ہوتا ہے۔ اکثرافراد یہاں بیمار ہوچکے ہیں لیکن وہ روزگار اور کھیتی باڑی کی وجہ سے اس علاقے میں رہنے پر مجبور ہیں۔

مسلسل آگ سے زہریلے ذرات اور مضر گیسیں نکل رہی ہیں جو علاقے کے لوگوں کی صحت برباد کررہی ہیں۔ یہاں آنے والے ایسٹ جارجیا اسٹیٹ کالج کے ارضیات داں گلین اسٹریچر نے بتایا کہ مختلف مقامات پر ہائیڈروکاربنز کے 40 سے 50 مختلف مرکبات ملے ہیں ۔

ان کی اکثریت زہریلی ہے اور کینسر کی وجہ بھی بن رہے ہیں۔مٹی ڈالنے اور مختلف گیسوں سے آگ بجھانے کی جو کوشش کی گئی وہ اب تک ناکام رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں