سرکاری ملازمین کو بڑا دھچکا۔۔ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن بند

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) آئندہ وفاقی بجٹ 2018-19ءمیں تنخواہوں اور مراعات کاایک نیاپیکیج متعارف کروائے جانے کا امکان ہے جس میں ملازمین کو مارکیٹ ریٹ کے مطابق تنخواہیں اور مراعات دی جائیں گی جبکہ ریٹائرمنٹ پر پنشن نہیں ملے گی۔

یہ پیکیج پاکستان میں پنشن کے بڑھتے بوجھ کو کم کرنے کیلئے متعارف کر ایا جائے گا، موجودہ حکومت کا یہ آخری بجٹ ہے جس میں عوام کو روزگار کی فراہمی ،بنیادی مسائل کا حل تر جیحات ہیں ،نئے بجٹ میں سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز (ایس گی ڈیز) کی طرز پر جامع اور بڑے مالیاتی پیکیج پر مشتمل خصوصی ترقیاتی پروگرام کا اعلان کیا جائے گا۔ اس سال اس پروگرام کیلئے 20ارب کی رقم رکھی گئی تھی جو بڑھا کر 30ارب روپے کر دی گئی ہے اور آئندہ مالی سال کیلئے اس کیلئے تین گنا بڑے پیکیج کی تیاری کا امکان ہے۔ بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف سے حالیہ مذاکرات میں حکومت کو سویلین اداروں کے ملازمین کی بڑھتی ہوئی پنشن کو مستقبل میں قابل برداشت حد کے اندر رکھنے کیلئے سرکاری ملازمت کا نیاڈھانچہ متعارف کروانے کی سفارش کی ہے جس میں ملازمین کو نجی شعبے کی طرز پر تنخواہ اور مراعات یکمشت ادا کرنے اور انہیں نوکری کے اختتام پر پنشن نہ دینے کی سفارش کی ہے۔ نئے ڈھانچہ کے تحت سرکاری ملازمین ماہانہ اضافی آمدن سے بچت کر کے اپنی آخری عمر کیلئے کوئی مالی اثاثہ بنا سکیں گے جس کیلئے انہیں مختلف پرائیویٹ پنشن سکیم اور دیگر سکیمیں آپشن کے طور پر دی جائیں گی جبکہ چاروں صوبوں میں پسماندہ ترین علاقوں میں وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پروگرام کے تحت بجلی، پانی، تعلیم، صحت، گیس اور سیوریج کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 100ارب روپے سے زائد مالیت کے پیکیج کی تیاری بھی آئندہ بجٹ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ وزارت خزانہ کے ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ ڈائریکٹر مڈل ایسٹرن ریجن ہیرالڈ فنگر کی سربراہی میں آئی ایم ایف کی ٹیم نے پوسٹ پروگرام مانیٹرنگ کے حالیہ 10روزہ مذاکرات میں پاکستان کو تین سالہ اکنامک فریم ورک تیار کرنے کی ہدایت کی ہے جس میں سر فہرست بیرونی ادائیگیوں کے عدم توازن کو تر جیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جن میں سال 2018ءمیں 9ارب ڈالر کے قریب بیرونی قرض کی ادائیگی، ممکنہ طور پر 36ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کو پورا کرنے یا اس کو کم کرنے کیلئے فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ اس ضمن میں حکومتی ٹیم کو 180ارب روپے کے برآمدی پیکیج پر فوری عملدرآمد، ترسیلات زر میں اضافہ کیلئے ریمیٹینس سکیم میں بہتری اور درآمدی اشیاءپر ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافے جیسے آپشنز پر فوری عملدرآمد کروانے کے ہدف کا سامنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں