عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے کچھ نہیں کرسکتے ،چیف جسٹس

اسلام آباد…سپریم کورٹ نے امریکہ میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وطن واپسی سے متعلق احکامات جاری کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے درخواست خارج کردی ۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا کہ معلوم کرنا چاہتے تھے عافیہ زندہ ہیں یا نہیں۔اب معلوم ہوگیا کہ وہ زندہ ہیں ۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔ عافیہ صدیقی کی رہائی کے معاملے میں حکومت پاکستان اور عدالتیں کچھ نہیں کر سکتیں۔ پیر کوچیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جتنا ہمارے اختیار میں تھا کر دیا۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے ۔ وزارت خارجہ کو نوٹس جاری کیا تھا اب معلوم ہوگیا کہ وہ زندہ ہیں۔ اگرعافیہ صدیقی کو آزاد کرانا چاہتے ہیں تو امریکہ کی سپریم کورٹ سے رجوع کریں۔امریکی حکومت کو کیسے حکم دے سکتے ہیں ۔عافیہ صدیقی کی ہمشیرہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے چیف جسٹس سے کہا کہ آپ عافیہ کو واپس پاکستان لا سکتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کسی خود مختار ملک کو حکم نہیں دے سکتے۔اگر یہاں سے کوئی ہدایات جاری کریں اور حکومت اسے رد کر دے تو پاکستان کی تضحیک ہوگی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں