عرب لیگ ہنگامی اجلاس،بیت المقدس کواسرائیلی دار الخلافہ تسلیم کرنےسےانکار

قاہرہ : عرب لیگ کے طلب کیے گئے ہنگامی اجلاس میں مسلم ممالک نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دالراخلافہ تسلیم کرنے کا فیصلہ مسترد کردیا۔ ہنگامی اجلاس میں امریکا کے خلاف مسلم ممالک کی مشترکا اقتصادی پابندیاں لگانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر سربراہ عرب لیگ کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کا فیصلہ خطرناک اور ناقابل قبول ہے، جس سے انتہا پسندوں کو مزید موقع ملے گا۔

تفصیلات کے مطابق خبر رساں اداروں کے مطابق مصر کے دالراحکومت قاہرہ میں عرب لیگ کا طلب کیا گیا ہنگامی اجلاس جاری ہے۔ اجلاس میں مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ مسترد کیا گیا ہے۔ افتتاحی اجلاس میں عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابوالغیط نے خطاب کیا۔

خطاب کے دوران احمد ابوالغیط کا کہنا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلہ یکطرفہ ہے،امریکی فیصلے نے ہمیں دیگر آپشنز پر غور کرنے پر مجبور کردیا ہے ، امریکی فیصلے سے عرب دنیا میں امریکی اعتبار ختم ہوگیا ہے، امریکی فیصلہ ایسی غلطی ہے جس پرچپ نہیں رہ سکتے۔

عرب لیگ کے اجلاس میں لبنان نے امریکا پر اقتصادی پابندیاں لگانے کی تجویز بھی دی۔ وزیر خارجہ جبران باسل کا کہنا ہے ابتداء میں سفارتی کوششیں کی جائیں، واشنگٹن نہ مانے تو سیاسی اور اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں۔

اجلاس سے خطاب میں عرب لیگ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کا فیصلہ ‘خطرناک اور ناقابل قبول’ ہے،ایسے فیصلے سے انتہا پسندوں کو مزید موقع ملے گا۔

دوسری جانب اجلاس میں فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی کا کہنا تھا کہ امریکی فیصلہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے،امریکا نے اپنا خطے میں اعتبار ختم کردیا ہے، امریکا اب مشرق وسطیٰ میں ثالث کا اہل نہیں رہا۔ وزیر خارجہ اردن ایمن الصفدی کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے اطمینان کے بغیر خطے میں امن نہیں ہوسکتا۔

مصر کے وزیرخارجہ سامح شکری کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال سے دہشت گردوں اور شدت پسندوں کو فائدہ ہوگا،فلسطین اور خطے کی صورت حال انتہائی خطرناک ہے،عالمی برادری مسئلے کے2 ریاستی حل کو یقینی بنائے اور امریکی فیصلہ دنیا کو مذہبی جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں