فیصلہ ،ن لیگ کیلئے الیکشن تک کا سفر مشکل ہو گیا، تجزیہ کار

کراچی(سنہرادور نیوز) تجزیہ حامد میر نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم کو تو سزا ہوگئی لیکن سابق فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف کیخلاف کیسوں کا فیصلہ کب ہوگایہ فیصلہ 1999ء میں بینظیر بھٹو اورآصف زرداری کیخلاف جسٹس ملک عبدالقیوم کے فیصلے سے ملتا جلتا ہے، تجزیہ کار شہزاد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی جمہوریت کیلئے آج اچھا دن نہیں مگر دنیا کے کئی ممالک میں سربراہان حکومت کرپشن کے الزام میں جیل کاٹ رہے ہیں، حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ عمران خان کے کیس میں کسی نے جمائما کو پاکستان آکر دستاویزات کی تصدیق کرنے کیلئے نہیں کہا لیکن قطری خط کا مذاق اڑایا گیا،سہیل وڑائچ نے کہا کہ فیصلے سے ثابت ہو گیا کہ اگلی حکومت نواز شریف کی نہیں آرہی اُنہیں اپوزیشن میں بیٹھنا پڑے گا،مظہر عباس نے کہا کہ اب پچیس جولائی تک کا سفر ن لیگ کیلئے پچھلے پورے سال سے زیادہ مشکل سفر ہو گیا ،ارشاد بھٹی نے کہا کہ پہلی دفعہ ایک طاقتور کو پکڑکر سزا دی گئی ،شریف خاندان جمہوریت پسند نہیں ہے، طلعت حسین نے کہا کہ اصل میں سیاسی معاملہ ہے اور بیچ میں جو ووٹر ہے جو تذبذب کا شکار

ہے ووٹر کا مخمصہ ختم نہیں ہوا ۔حامد میر نے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ غیرمتوقع نہیں ہے، نواز شریف کو پہلی دفعہ سزا نہیں سنائی گئی، اٹھارہ سال قبل بھی احتساب عدالت نے انہیں چودہ سال قید کی سزا دی تھی، ملک میں نئی بحث شروع ہوجائے گی کہ سابق وزیراعظم کو تو سزا ہوگئی لیکن سابق فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف کیخلاف کیسوں کا فیصلہ کب ہوگا، پرویز مشرف کے بھی اربوں روپے کے غیرملکی اکائونٹس میں موجود ہیں انہیں بھی پاکستان لاکر قانون کے سامنے پیش کیا جائے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ ن لیگی رہنماکہتے ہیں کہ عدالتیں ہمارے خلاف فیصلے کرتی ہیں تو انہیں یاد رکھناچا ہئے کہ ماضی میں وہ بھی اس قسم کے فیصلے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف کرواتے تھے،یہ فیصلہ 1999ء میں بینظیر بھٹو اورآصف زرداری کیخلاف جسٹس ملک عبدالقیوم کے فیصلے سے ملتا جلتا ہے، انٹیلی جنس بیورو اس فیصلے سے متعلق جسٹس ملک عبدالقیوم کی شہباز شریف، سینیٹر سیف الرحمن ، خالد انور اور لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس راشد عزیز سے گفتگو سامنے لایا تھا جس کے بعد سپریم کورٹ نے ملک قیوم کے فیصلے کو کالعدم قرار دیدیا تھا۔ تجزیہ کار شہزاد چوہدری نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں سربراہان حکومت کرپشن کے الزام میں جیل کاٹ رہے ہیں، پاکستان کی جمہوریت کیلئے آج اچھا دن نہیں ہے، کاش نواز شریف کے نام پر یہ چیزیں نہیں آتیں۔ تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ نواز شریف کے بیانیہ کوعوام میں بہت پذیرائی ملی ہے، عمران خان کے کیس میں کسی نے جمائما کو پاکستان آکر دستاویزات کی تصدیق کرنے کیلئے نہیں کہا لیکن قطری خط کا مذاق اڑایا جاتا رہا، سزا پر نواز شریف کا ردعمل بہت اہم ہوگا، ن لیگ ایسا کوئی کام نہ کرے کہ الیکشن ملتوی ہوجائیں۔شاہ زیب خانزادہ نے کہا کہ ایسے ہی فیصلہ کی توقع کی جارہی تھی یہ لگ رہا تھا کہ دونوں کو قید اور جرمانے کی سز ا ہوگی اب اس کے سیاسی مضمرات پر سوال ہوسکتا ہے اب نواز شریف پر منحصر ہے کہ وہ بڑا فیصلہ کرتے ہیں یا نہیں فیصلہ آنے سے نواز شریف کی سیاست ختم نہیں ہوتی فیصلہ کے اوپر نواز شریف جو فیصلہ کریں گے پاکستان آنے کا یا نہ آنے کا کتنی دیر اور جلدی آنے کا اُس سے نواز شریف کی سیاست کا تعین ہوگا اگرآکے دو دن جیل میں گزارتے ہیں تو آپٹکس اور ڈائنامیکس الگ ہوں گے الیکشن میں زیادہ ٹائم نہیں ہے معاملہ الیکشن تک گرم رہے گا ۔سہیل وڑائچ نے کہا کہ اس فیصلے سے مسلم لیگ نون کی سیاست پر بڑا گہرا برا اثر پڑے گا اور عمران خان کو اس کا سیاسی فائدہ پہنچے گا اور اُن کے ووٹرز کی تعداد میں اضافہ ہوگا ہاں اگر نواز شریف فوری واپسی کا فیصلہ کرتے ہیں اور آکر گرفتاری دیتے ہیں اور ا ُس کے بعد مزاحمت کی تحریک چلتی ہے تو اُس میں اُن کا ووٹ بینک مزید گرنے سے شاید روک جائے یہ بھی ثابت ہوگیا ہے اس فیصلے سے کہ اگلی حکومت نواز شریف کی نہیں آرہی بلکہ اُنہیں اپوزیشن میں جا کر بیٹھنا پڑے گا شہباز شریف بطور احتجاج کالی پٹی سے زیادہ آگے جانے کو تیار نہیں ہیں شہباز شریف آج اپنے بیانیہ کو بدل سکتے تھے نواز شریف سے ایک دفعہ پوچھا تھا آپ دونوں بھائی جان بوجھ کر گڈ کاپ بیڈ کاپ کھیلتے ہیں تو اُن کا کہنا تھا کہ اس میں حرج ہی کیا ہے ہم نے ایسے ہی دو شیڈ رکھے ان دو شیڈز کا ہمیں سیاست میں فائدہ ہے اس لئے یہ جتنا بڑا فرق ہم سمجھتے ہیں بیانیہ میں یہ اتنا بڑا نہیں ہے ۔طلعت حسین نے کہا کہ ہم سب کا اس پر اتفاق رائے تھا کہ بہت ہی کم اُمید ہے کہ اس معاملے کے اندر نواز شریف کو سزا نہ ہو تو سزا ہونا تو ٹھہرا ہوا تھا اگر آپ اس کو بنیاد بنا لیں پاکستان میں سیاسی حوالے سے سزا ہونے کی جو بحث ہے وہ بٹی ہوئی ہے ایک طرف ایسے لوگ ہیں جو کہتے ہیں سزا بالکل ٹھیک ہوئی ہے دوسرے طرف وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں انہیں سزا نہیں ہونی چاہیے تھی اور کہنا ہے کہ اصل میں سیاسی معاملہ ہے اور بیچ میں جو ووٹر ہے جو تذبذب کا شکار ہے ووٹر کا مخمصہ ختم نہیں ہوا۔مظہر عباس نے کہا کہ اب پچیس جولائی تک کا سفر ن لیگ کیلئے پچھلے پورے سال سے زیادہ مشکل سفر ہو گیا اب جب نواز شریف واپس آئیں گے تو کیا مسلم لیگ نون کے کارکن ایئرپورٹ پر پہنچیں گے کیا مسلم لیگ نون احتجاج کی کال دے گی یا نہیں شہباز شریف کی پریس کانفرنس سے مایوسی ہوئی 1990 میں بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کی گئی تھی تو اُن کی کانفرنس میں جو غصہ نظر آرہا تھا آج شہباز شریف کی کانفرنس میں وہ غصہ نظر نہیں آیا نرم انداز میں وہ احتجاج کر رہے تھے ایسے موقف کے ساتھ مجھے نہیں لگتا کہ وہ مظلومیت کے حوالے سے کوئی فائدہ اٹھا سکیں گے عمران خان مسلسل اس چیز کو کائونٹر کر رہے ہیں شہبا زشریف اگر اتنی سوفٹ ٹون لے کر الیکشن میں گئے تو نہیں سمجھتا کہ وہ کامیاب ہو پائیں گے ۔ اگر نواز شریف نے جلدی واپسی کا فیصلہ نہیں کیا تو مسلم لیگ اُن کے ہاتھ سے نکل جائے گی مسلم لیگ شاید رہے لیکن نام بدل جائے گا اُن کے پاس راستہ یہی ہے کہ واپس آئیں اب شہباز شریف ڈیولپمنٹ کے بیانیہ پر الیکشن نہیں جیت سکتے۔ارشاد بھٹی نے کہا کہ پہلی دفعہ ایک طاقتور کو پکڑکر سزا دی گئی ہے پاکستان میں طاقتور لوگوں کا احتساب دیکھ رہا ہوں نواز شریف پہلے دن سے یہ کیس ہار چکے تھے اُن کے پاس کبھی کوئی ثبوت نہیں تھی نومہینے یہ کیس چلا بھرپور سنا گیا ۔ شہباز شریف نواز شریف بڑی توجہ کے ساتھ گڈ کاپ بیڈ کاپ کھیلتے ہیں دوسری بات یہ ہے کہ جب بھی آئیں نواز شریف کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ جہاں تک آپ نے جمہوریت پسند کو سزا دینے کے حوالے سے بات کی اس بات کا دکھ ہے جنہیں جمہوریت پسند کہا جارہا ہے وہ جمہوریت پسند نہیں ہیں انہوں نے جمہوریت کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے جمہوریت پسند ہوتے تو یہ نوبت نہ آتی جمہوریت پسند یہاں سپریم کورٹ پر حملہ کرتے ہیں ، ڈاکٹر عاصم کو چیئرمین ہائر ایجوکیشن بنا دیتے ہیں، شرجیل میمن کو ایوارڈ دیتے ہیں ، عوام عدلیہ اور اسمبلی کو بیوقوف بناتے ہیں کیا آپ ایسے لوگوں کو جمہوریت پسند کہیں گے جنرل اسد درانی ، جنرل بٹ ای سی ایل پر ہیں ایڈمنرل منصورالحق کو ہتھکڑیاں لگیں تھیں پیسے واپس لیے تھے اسلم بیگ پیشیاں بھگت رہے ہیں پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ ہے وہ باہر ہیں 96 ء؁ میں نصیراللہ بابر کا کہنا تھا کہ الیکشن چرایا گیا کتنی حکومتیں درمیان میں آئیں پیپلز پارٹی کی بھی حکومت آئی اُس کے بعد زرداری صدر بنے یہ میں نے چلانا تھا یا فوج نے چلانا تھا اُس کے بعد اسلم بیگ کو کس نے لا کر احتساب کرنا تھا جنرل اسد درانی کا کس نے احتساب کرنا تھا مشرف کو کس نے جانے دیا انہوں نے مشرف کو واپس نہیں لائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں