ٹرمپ کا بیان: امریکی سفیر طلب، پاکستان کا احتجاج

اسلام آباد: دفتر خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان پر ہنگامی طور پر امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کو طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے اور احتجاجی مراسلہ سپرد کر دیا گیا۔

وزیراعظم نے پاک امریکہ تعلقات میں تناؤ کے بارے میں اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پاکستان نے امریکہ صدر کے پاکستان مخالف بیان پر امریکہ سے وضاحت طلب کر لی ہے۔

امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا احتجاجی مراسلہ سپرد کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے امریکی صدر کے پاکستان مخالف بیان پر وضاحت پیش کی جائے کیونکہ اس جنگ میں اخراجات کولیشن فنڈز سے کیے جاتے تھے۔

ذرائع کا دعوی ہے کہ امریکی سفیر کو احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے طلبی کے معاملے پر وزیراعظم نے ہنگامی طور پر تمام اہم اداروں کی قیادت سے مشاورت کی ابتدائی طور پر بعض سرکردہ رہنماؤں کو بھی اعتماد میں لیا گیا امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ امریکی صدر کا بیان پاکستانی قربانیوں کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔

امریکی سفیر اور سیکرٹری خارجہ تمہینہ جنجوعہ کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں سیکرٹری خارجہ نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کا ہوا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی دعوی ہے کہ وزیر اعظم منگل کو (کل) بھی سیاسی قائدین سے مزید رابطے کریں گے حکومت پاک امریکہ تعلقات پر آج اعلان کریگی۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان پر الزامات لگاتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ امریکا نے گزشتہ 15 سال میں پاکستان کو 33 ارب ڈالر امداد دے کر بہت بڑی بے وقوفی کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں