پاکستان کے ہر نوجوان کو ڈاکٹر قدیر بنانا چاہتا ہوں،بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ نے خواہش کا اظہارکردیا

کراچی(سنہرادور): امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ پاکستان کے ہر نوجوان کو ڈاکٹر قدیر بنانا چاہتا ہوں،ہمیں دشمن سے زیادہ کرپٹ سیاستدانوں اور بیوروکریسی سے خطرہ ہے ،کرپٹ قیادت کی وجہ پی آئی اے اور ریلویز۔ اسٹیل ملز کو تباہ کر دیا۔کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ کراچی میں یوتھ الیکشن ہورہا ہے ،یونین کونسل اور وارڈ کی سطح پر نوجوان اپنی قیادت کا انتخاب خود کررہے ہیں ، ہم نوجوانوں کو ڈسٹرکٹ لیول سے پاکستان کی سطح پر سیاست میں لانا چاہتے ہیں تاکہ وہ ملکی ترقی میں اپنا کردار اداکرسکیں ،ہم نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں ہم نے پہلے مرحلے میں پختونخواہ اور پھر پنجاب کے بعد اب سندھ میں یوتھ انٹراپارٹی الیکشن کا انعقادکررہے ہیں ،کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے ،انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کی وجہ سے سارا شہر پریشان ہے ،شہریوں کو پینے کیلئے صاف پانی میسر نہیں اور اب تو پانی بھی نہیں مل رہا،تعلیمی ادارے نہ ہونے کے برابر ہیں طویل عرصے سے کوئی نیا تعلیمی ادارہ نہیں بنا،کھیلوں کے میدان نہیں بنے،جو میدان تھے اس پر بھی لوگوں نے قبضے کئے اور پلاٹنگ کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 65 فیصد نوجوان ہیں ،ہم 50 فیصد ٹکٹ نوجوانوں کو دیں گے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے یوتھ انٹرا پارٹی الیکشن ہو رہے ہیں۔4 مئی کو کراچی میں نوجوانوں کی قوت کا بڑا مظاہرہ ہوگا ،میں ہر نوجوان کو ڈاکٹر قدیر بنانا چاہتا ہوں ،لائبریریوں کو آباد کرنا چاہتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ کراچی میں بلدیاتی ادارے ناکام ہو گئے ،سندھ کی حکومت ناکام ہو چکی ہے ،آئندہ بلدیاتی الیکشن میں نوجوانوں کو سامنے لائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں