پیدائشی مسلمان،شعوری مسلمان

مقدر عباس

بیچارے دیہاتی کا شہر کا پہلا سفرتھا۔بلند و بالا عمارات،رنگ برنگی گاڑیاں ہر چیز کو حیران کن نگاہوں سے دیکھ رہا تھا، کہ اس کی نگاہ مسجد کے بلند میناروں پر پڑی،حیرانی و سرگردانی کے عالم میں اسے گھور ہی رہا تھا کہ ایک شہری کی نظروں میں آ گیا۔اسے دیہاتی کی سادہ لوحی سے لطف اٹھانے کی شرارت سوجھی۔قریب آ کر کہنے لگا واہ واہ کیا دیکھتے ہو!ایسا درخت پہلے کبھی نہیں دیکھا دیہاتی نے کہا نہیں دیکھا کہ جس کا صرف تنا ہی ہے اور نہ ہی شاخیں اور نہ ہی پتے وغیرہ۔۔۔شہری نے کہا آپ کو نہیں معلوم اس کے بازار سے بیج بھی ملتے ہیں وہ لے لو اور خود جاکر کاشت کرو۔زمین کو تیار کر کے بیج کاشت کر دینا کچھ ہی عرصے بعد ایسا تناور درخت تمہارے اپنے آنگن میں نظر آئے گا۔اس نے  شرارتا اسے گاجر کا بیج لے کر دے دیا ۔ دیہاتی پر جوش انداز میں واپس پلٹا۔زمین تیار کی ،اور بیج کاشت  کر دیے؛ پانی دیتا رہا۔۔۔۔۔، کافی دن گزر گئے۔ اسے گھاس پھوس نظر آئی۔کچھ اور دن گزرے درخت کا وجود ہی نہیں۔ کیاکروں۔؟بالاخر صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور زمین کھودی تو برآمد ہونیوالی چیز کو نکال کر کہا درخت  اگا تو ہے پر الٹا اگا ہے۔۔۔۔۔دین کامل ہونے پر نعمت تمام ہونے کی بشارت ملی اور اس کو پسندیدہ دین اسلام کہا گیا۔اور اس دین کی تعلیمات کے سامنے سر تسلیم ہونیوالے کو مسلمان کہا جانے لگا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسلام اور مسلمان کا رشتہ جو کہ ایمان و عمل کی شرط پر قائم تھا وہ آہستہ آہستہ ماند پڑتا گیا یعنی ایمان و عمل صرف زبانی کلامی بن کر رہ گیا۔

بقول علامہ اقبالؒ۔

زباں سے کہہ بھی دیا لاالہ تو کیا حاصل

دل ونگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں۔

یعنی بطور مسلمان ہمارا دعویٰ ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سےدوسرے محفوظ ہوں۔جس کا ایمان ہے کہ خدا حاضر ناظر ہے۔جو ایمان لایا ہےکہ ایک دن اس دنیا سے جانا ہے۔قیامت جیسی اٹل حقیقت کو بھی مانتا ہے۔ قرآن واھل بیت اور اصحاب اخیار سے انتہائی عقیدت بھی رکھتا ہے۔لیکن جب عملی طور پر دیکھا جاتا ہے تو محسوس ہوتا ہے جس ایمان کی بات کی جارہی ہے وہ ایمان کامل نہیں ہے۔اگر ایک ایسے درخت سے (جس کی شاخیں خشک۔پتوں سے خالی)ہمیں سوال کرنے کا موقع ملے اور ہم سوال کریں کہ آپ کی یقیناً جڑ میں روگ ہے جس کی وجہ سے  شاخیں اور پتے خشک ہیں اور وہ بڑی دیدہ دلیری سے کہے کہ خبردار ایسی بات مت کرو میری جڑوں سے مضبوط کسی کی جڑیں نہیں ہیں تو ہم کہیں گے کہ اگر جڑ ٹھیک ہوتی تو اس کے اثرات سر سبز پتوں اور ہری بھری شاخوں میں نمایاں ہوتے۔یہ دعوی احمقانہ ہے۔یہی مثال اگر ہم آج اپنے اوپر لاگو کریں تو کسی نے کیا خوب کہا ہےکہ! مت پوچھ مسلمان کا حال ؛ مسجد کے لیے سر کٹانے کو تیار ہے لیکن،مسجد میں سر جھکانے پر تیار نہیں۔جو کہتا تو ہے کہ میری رگ میں ہے نبی نبی مگر پڑھتا ہے سال میں نماز کبھی کبھی۔جو نبیﷺکا نام سنتے ہی جھوم جاتا ہے اور نبی ﷺکا فرمان سنتے ہی گھوم جاتا ہے۔جب عمل کرنے کی باری آئے جواب ملتا ہے کہ ہم کہاں اور وہ کہاں اور جب جنت میں جانے کی بات آئے تو ہم نبی کے ساتھ جنت میں جائیں گے۔محسوس ہوتا ہے کہ ہم، شعوری مسلمان کی بجائے، پیدائشی مسلمان زیادہ بن گئے ہیں۔ بلکہ اور سبھی کچھ بن گئے ہیں صرف مسلمان نہیں  بن سکے۔

بقول اقبالؒ۔                                                                                                            

یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو

تم سبھی کچھ ہو بتاؤ کہ مسلمان بھی ہو۔

ہمیں اس بات پر یقین ہے کہ۔ الم یعلم بان اللہ یری۔(کیا انسان نہیں  جانتا کہ اللہ  اسے دیکھ رہا ہے۔؟)لیکن ہماری جلوت اور خلوت میں فرق کیوں۔؟ ۔ہم ہی کہتے ہیں صفائی ایمان کا حصہ ہے لیکن ہمارے ہی گھر سے لیکر بازار تک آلودہ،کہتے تو ہیں رشوت لینے والا اور دینے والا جہنمی !لیکن اعتکاف پر بیٹھنے سے پہلے رشوت کی وصول کردہ رقم گھر والوں کو دے کر شکر خدا بھی کریں گے ۔سود پر پیسے دے کر گھر بھی بنوا لیں گے اور اوپر بڑی سی تختی لگا کر ـ

(ھذا من فضل ربی )ـبھی لکھوا دیں گے۔کرپشن کریں گےاورحج بھی ادا کریں گے اور کمال مسلمانی تو اس وقت دیدنی ہوتا ہے جب شراب کی بوتل تھامے حلال گوشت ڈھونڈا جارہا ہو۔، ۔کوئی کہے کہ قرآن و پیامبر کونہیں مانتا تو زبانی کلامی مسلمان یہ کہہ کر کہ “کس کی جرات ہوئی کہ ہماری کتاب اور پیغمبر کو نہ مانے” اس کا ایسا حال کرے گا کہ قبر تک پہنچا آئے گا اور ایمان کا دعویٰ کرنے والے قرآن و پیامبر کو مانیں گے لیکن قرآن و پیامبر کی نہیں مانیں گے۔ہم کہتے ہیں قرآن ہماری ھدایت کے لئے ہے لیکن عمل جنتری کے مطابق کریں گے اگر ہم تھوڑا ٹھہر کر اپنی زندگیوں میں موجود قرآنی تعلیمات کو ایک نظر دیکھیں تو ہم بھی شاید ، بلکہ یقینا یہی کہیں گے کہ  ہم نےتعلیمات قرآن کو لیا تو ہے پر الٹا لیا ہے۔ہم نے اسلام کو لیا تو ہے پر الٹا لیا ہے۔ قرآن کا فرمان ہے کہ یہ آیا ہے[لینذر من کان حیا]۔(تاکہ زندہ لوگوں کو آگاہ کرے) لیکن ہم نے اس سے صرف مردے بخشوانے کے لیے ہی استفادہ کیا ہے مردے کو بھی تب فائدہ دے گا جب اس نے اپنی زندگی میں اس کو عملی کیا  ہو ورنہ ابوجہل کو 100 بار  بھی قرآن  پڑھوا کےبخشوا دیں اثر نہیں رکھتا۔

پیدائشی مسلمان،شعوری مسلمان” ایک تبصرہ

  1. جزاک اللہ اللہ تعالی آپکی توفیقات میں مزید اضزفہ فرمائے
    آمیں

اپنا تبصرہ بھیجیں