کامسیٹس کا چین کے شہر تیاآنجن میں صنعتی بائیوٹیکنالوجی کے مشترکہ مرکزکا افتتاح

اسلام آباد(سنہرا دور): پاکستان سمیت دنیا کے27 رکن ممالک کے لیےسائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں تحقیق و ترقی کے کمیشن کامسیٹس نےچین کے شہر تیآنجن میں صنعتی بائیوٹیکنالوجی کے مشترکہ مرکزکا افتتاح کردیا۔یہ مرکز جنوبی جنوب میں پائیدار ترقی کے لیے مصروف عمل کمیشن (کامسیٹس)اورچین کے انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل بائیوٹیکنالوجی (ٹی آئی بی) کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔مرکز اپنے قیام کے بعد کامسیٹس کے ساتھ منسلک ہوا اور کامسیٹس کامرکز آف ایکسی لینس بنا۔افتتاحی تقریب کے موقع پرپاکستان کے وزیر برائے سائنس وٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نےاپنے خطاب میں کہا کہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی پذیر ممالک کے مابین باہمی تعاون کی مثال کے لیے کامسیٹس کا کردار سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ انہوں نےکہا کہ صنعتی بائیوٹیکنالوجی سے سائنس کے میدان میں نئی صلاحیتوں ملیں گی،جس سے ہماری زراعت ،صحت کے میدان میں دیکھ بھال اور ماحولیات کے علاوہ دیگراہمیت کے حامل شعبوں میں بھی بہتری آئے گی ۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سے بھوک،افلاس، غربت اوربیماریوں میں بھی کمی واقع ہوگی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز کا موثر انداز میں مقابلہ کرنے کے نئی قابلیت بھی حاصل ہوگی۔انہوں نے چینی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور تیآنجن حکومت کی جانب سے مصنوعی حیاتیات کے قومی مرکز برائے قومی انوویشن (این سی ۔سوین بائیو) کے فریم ورک کے تحت سی سی آئی بی کے قیام کے لیے فراہم کردہ مالی تعاون کاشکریہ اداکرتے ہوئے ادارے کی بھرپورسرپرستی کا بھی اعتراف کیا۔اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے چین کی وزارت سائنس وٹیکنالوجی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل مسٹر لنہاؤ چن نے کہا کہ کامسیٹس کے ممبر ممالک دوسری چیزوں کے علاوہ پودوں اور جانوروں سے حاصل ہونے والے قابل تجدید نامیاتی مواد سے مالامال ہیں اور اس سےصنعتی بائیوٹیکنالوجی کے میدان میں بھرپور فوائد حاصل ہوں گے۔اس موقع پروزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے وفاقی سیکریٹری اور کامسیٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ارشاد محموداور ٹی آئی بی کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹریان ہے ما،نےمشترکہ مرکز کے قیام کے معاہدے پر دستخط کیے۔بعدازاں ڈاکٹر ارشاد محمود نے کہا کہ یہ مشترکہ مرکزعصر حاضرکےبڑے چیلنجوں سے نبرآزماہونے میں نہایت اہم کردار ادا کرے گا اور اس سے علاقائی اور عالمی سطح پربھی بھرپورفوائد حاصل کیے جا سکیں گے،جب کہ پروفیسر یان ہے ما نےامید ظاہر کی کہ کامسیٹس اپنے رکن ممالک کے ساتھ سی سی آئی بی کے ارکان ممالک میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے نئے مراکز کے قیام کے ساتھ ساتھ ٹی آئی بی کے ساتھ جاری تعاون کو مزید مستحکم کرنے میں کوشاں رہے گا۔اجلاس کے دوران نئے مشترکہ مرکز( سی سی آئی بی )کے نئے تعینات ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر جبن سن نے مرکز کے ترقیاتی منصوبوں، نئےپروگرامز اور سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ اس کے بعد سی سی آئی بی کی مشاورتی کمیٹی اور ٹی اے سی کے ممبران کے درمیان ایک مشاورتی اجلاس کا انعقاد ہوا۔ جس میں اعلی سطح پر مشترکہ تحقیق و ترقی کو فروغ دینے کے ذرائع پر تبادلہ خیال ہوا۔اس اجلاس میں استعداد کار میں اضافے کے لیے جدید طریقوں کو آگے بڑھانے،رکن ممالک کے مابین ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دینےاور مشترکہ مرکز کو ایک اعلی درجے کے تھنک ٹینک ادارے میں ڈھالنے کے عمل اور طریقہ کار پر غور وخوض کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں