محبت ایک خوبصورت احساس

تحریر: ربعیہ ارشد منج
محبت ایک خوبصورت احساس ہے ۔جسے آج کے دور میں بدنام کر دیا گیا ہے۔ ہر تیسرے مرد کو ایک خوبصورت لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے جو کہ سوشل میڈیا کی ہی بدولت ہے۔ چار دن کی یہ محبت انہیں سب بھلا دیتی ہے۔ لڑکی اپنی عزت تو کیا گھر والوں کی عزت کی بھی پرواہ کئے بغیر اس شخص کے ساتھ زندگی گزارنے پر آمادہ ہو جاتی ہے جسے شاید وہ سوشل میڈیا کی حد تک ہی جانتی ہوتی ہیں۔ چار دن باتیں کر کے نوجوان شادی جیسے بڑے فیصلے کر لیتے ہیں۔ زیادہ تر لڑکیاں تو گھر والوں سے بات کے بغیر ہی گھر سے بھاگ جاتی ہیں۔ اور باقی کی لڑکیاں گھر والوں کے انکار پر یا تو موت کو خوشی سے گلے لگا لیتی ہیں ۔یا وہ بھی گھر سے بھاگ کر اپنی اور گھر والوں کی عزت کو داغدار کر دیتی ہیں۔ پھر چند عرصے کے بعد اس لڑکے کے ساتھ نکاح کے بندھن میں بندھ کر زندگی گزار رہی ہوتی ہیں۔ لیکن ان لڑکیوں کی زندگی میں سوائے دکھ اور مشکلات کے کچھ باقی نہیں رہتا۔وہ جس لڑکے کو اپنا سب کچھ مان کر اس کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کر تی ہیں۔ بعد میں یہی لڑکے ان لڑکیوں کی خدمت میں ایسے الفاظ پیش کرتے ہیں.
تم اگر ایک اجنبی لڑکے کے لیے اپنے گھر والوں ،ماں ،باپ کو چھوڑ سکتی ہو تو کل کو کسی اور لڑکے کے لیے اپنے شوہر کو چھوڑنا مشکل نہیں ہو گا تمہارے لیے۔
اور نہ جانے ایسی ہی کتنی تلخ باتوں کا ان لڑکیوں کو سامنا کرنا پڑتا ہے جنہیں نہ تو بعد میں اس کے سسرال والے ،نہ گھر والے حتیٰ کے اس کا اپنا شوہر بھی قبول کرنے سے انکار کرتا پھرتا ہے۔ اور ان لڑکیوں کی زندگی میں سوائے ذلت ورسوائی کے کچھ باقی نہیں رہتا۔ اور کچھ لڑکیوں کا محبت کا بھوت اس وقت اتر جاتا ہے جب ان کو اپنی زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جسم فروشی اور نا جائز تعلقات جیسے گھٹیا اور نیچ کام کرنے پڑتے ہیں ۔
ہمارے آج کے اس ترقی کرتے دور میں نہ صرف نوجوان بلکہ بچے بھی اس ناکارہ جھوٹی محبت کے جھال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ جس عمر میں ہم گھر سے باہر نکلنے سے پہلے ماں باپ کی اجازت لیتے تھے ۔ ہمارے کھیلنے کودنے ،کھانے پینے ہر چیز کا علم ماں باپ کو ہوتا تھا۔ ان اسی عمر کے بچے سوشل میڈیا پر ایسی دوستیاں کیے ہوئے ہیں کے اگلے بندے کی عقل دھنگ رہ جاتی ہے۔ زندگی اور موت کی باتیں کرتے یہ بچے نہ تو اپنا بچپن انجوائے کر پاتے ہیں بلکہ دھوکا دینا اور فراڈ کیھلنا بھی سیکھ جاتے ہیں۔
میں یہاں اس بات پر روشنی ڈالتی چلوں کہ ضروری نہیں ہر محبت ہی فراڈ ہو ۔میں سوشل میڈیا کی دوستیوں کی بات کر رہی ہوں جس نے محبت کے اصل معنی کو دفن کر دیا ہے ۔محبت تو لفظ ہی خوبصورت ہے ۔یہ تو ایک احساس کا نام ہے۔ بھروسے اور یقین کا نام ہے ۔آپ اس طرح کے دور میں کیسے کسی بھی ارے غیرے پہ یقین کر سکتے ہو ۔ جب کہ یہ دنیا فراڈ اور دھوکے سے بھری پڑی ہے۔اور یہ فراڈ اور دھوکہ ہم خود ہیں۔ آئیں! سب سے پہلے دھوکے اور فراڈ کو ختم کرنا خود سے شروع کرتے ہیں ۔آپ پہلے خود سے محبت کریں ۔پھر آپ دنیا کی چالاکیوں اور مکاریوں کا آسانی سے مقابلہ کر سکیں گے۔ اور پھر سچی محبت اور جھوٹی محبت میں واضح فرق معلوم ہو گا.
سوچیں اور غور کریں۔

محبت ایک خوبصورت احساس” ایک تبصرہ

  1. ماشااللہ بہت ہی عمدہ تحریر ہے۔ اللہ ہمارے اُبھرتے ہوئے لکھاریوں کا حامی و ناصر ہو۔ (آمین)

اپنا تبصرہ بھیجیں