پیٹ کی چربی شرطیہ گُھلانے والی غذائیں کونسی ہیں؟

پاکستان سمیت دنیا بھر میں دیگر بیماریوں سمیت اضافی وزن اور موٹاپے میں دن بہ دن اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، اس کی بڑی وجہ ماہرین کی جانب سے انسانی زندگیوں میں دیسی، صاف، سادہ غذاؤں کا استعمال کم اور مارکیٹ سے تیار مرغن، تلی ہوئی غذاؤں اور فاسٹ فوڈ کا استعمال کا بڑھ جانا اور غیر متحرک زندگی کو قرار دیا جاتا ہے۔

طبی ماہرین کی جانب سے موٹاپے کو سو بیماریوں کی جڑ قرار دیا جاتا ہے، موٹاپے کے نتیجے میں پیش آنے والی طبی شکایات میں ہائی بلڈ پریشر، ذیابطیس ٹائپ1 اور ٹائپ ٹو، غیر متوازن خون کی روانی، جسمانی اعضاء کی غیر مناسب کارکردگی اور دل کے عارضے میں مبتلا ہونا سر فہر ست ہے۔

ماہرین کے مطابق سب سے زیادہ خطرناک انسانی پیٹ کے گرد جمی چربی ہے جس سے نجات حاصل کرنا لازم ہے۔

پیٹ کی گرد جمی چربی کو گھلانے کے لیے ڈائٹنگ اور ورزش جیسے متعدد طریقے اپنائے جاتے ہیں جو کہ بے سود نظر آ تے ہیں، پیٹ کی چربی گھلانے کا سب سے موثر علاج اور طریقہ طرز زندگی بدلنا، غیر متحرک زندگی سے جان چھڑانا اور مثبت خوراک کا طویل عرصے تک استعمال کرنا ہے۔

پیٹ کی چربی گُھلانے کے لیے کن غذاؤں کا استعمال لازمی ہے :

لیموں کا استعمال

غذائی ماہرین کے مطابق دن میں ایک لیموں کا استعمال لازمی کریں، بہتر یہ ہے کہ اپنے دن کا آغاز نیم گرم لیموں پانی کے استعمال سے کریں، ایک گلاس نیم گرم پانی میں لیموں کا رس شامل کر کے چٹکی بھر نمک ڈالیں اور پی لیں، اس کا روزانہ استعمال نہ صرف جسمانی اعضاء فعال ہوں گے بلکہ آہستہ آہستہ پیٹ بھی کم ہوگا۔

روٹین سے چینی، شکر ، مٹھاس نکال دیں

سفید چینی، شکر اور براؤن شوگر اور اس سے بنی اشیاء سے پرہیز بہت ضروری ہے، سافٹ ڈرنکس بھی انہی میں شامل ہیں جن سے حتی الامکان بچنا چاہیے، دوسری جانب شکر والے مشروبات میں مٹھاس سمیت دیگر مضر صحت اجزا بھی پائے جاتے ہیں جو کہ پیٹ اور رانوں پر چربی بڑھاتے ہیں۔

پانی کا زیادہ استعمال

کمر کی چوڑائی کم کرنے میں سنجیدہ ہیں تو زیادہ پانی پینا بھی اس کا ایک بہترین علاج ہے، پانی خون میں شامل چکنائی اور اضافی شوگر کو زائل کرتا ہے ، زیادہ پانی پینے سے جسم میں موجود زہریلے مادے بھی خارج ہوتے رہتے ہیں۔

لہسن کا استعمال

صبح دیسی لہسن کا ایک یا دو جوے کھانے بہت مفید ہیں، اگر لہسن کا جوا چھیل کر اسے چمچے سے پیس کر کھایا جائے اور ساتھ ہی اس پر لیموں کا پانی پی لیا جائے تو ایک جانب تو خون کی روانی بہتر ہوتی ہے اور دوسری جانب پیٹ کی چربی کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

گریوں اور میووں کا استعمال

توند کی چربی گھٹانے کا ایک موثر ذریعہ ایسے فائبر کو اپنی غذا کا حصہ بنانا ہے جو کہ آسانی سے جذب ہوسکے، ایسا فائبر زیادہ تر ڈرائے فروٹ یعنی گریوں اور خشک میوہ جات میں پایا جاتا ہے۔

طبی و غذائی ماہرین کے مطابق باداموں کی کچھ مقدار روزانہ کھانا جسمانی میٹابالزم کو بہتر بناکر موٹاپے اور توند سے نجات دلانے میں مدد فراہم کرتا ہے، ہر روز 15 سے 17 بادام ضرور کھائیں، چھلکا اتار کر کھانا زیادہ مفید ہے۔

بادام دل کی صحت کو بہتر بنانے سمیت بے وقت کی بھوک کو کنٹرول کرتے ہیں، اس میں موجود مونوسیچوریٹیڈ فیٹس توند گھٹانے میں مدد دیتے ہیں، ایک تحقیق کے مطابق روزانہ چند بادام کھانا بہت تیزی سے جسمانی وزن کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

کیلوں کا استعمال

کیلے پوٹاشیم سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ بلڈ پریشر اور خون کی شریانوں کی صحت بہتر بنانے والا جز ہے، کیلوں میں موجود وٹامنز بے وقت کھانے کی خواہش پر قابو پانے میں مدد دیتے ہیں۔

کیلے کھانے سے میٹابا لزم ریٹ بھی بڑھتا ہے جو کہ توند کی چربی تیزی سے گھلانے میں مدد دیتا ہے۔

دالیں

دالوں میں پروٹین اور فائبر کافی زیادہپایا جاتا ہے، اس کے علاوہ دالوں کے استعمال سے جسم کو آئرن کی مطلوبہ مقدار بھی ملتی ہے، دال کا استعمال یعنی کے سپر فوڈ کا استعمال ہے، دال ایک مکمل غذا ہے۔

سبز چائے

سبز چائے پینا کمر اور پیٹ کی چربی کو گھلاتا ہے، اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسمانی توانائی بڑھانے، ہاضمہ بہتر کرنے اور چربی گھلانے کا عمل تیز کرتا ہے۔

سبز چائے پینے سے موٹاپے سے نجات کی رفتار تیز ہو جاتی ہے ۔

ایک تحقیق کے مطابق دن میں 2 سے 3 کپ سبز چائے کے استعمال سے چند دنوں میں ڈیڑھ کلو تک وزن کم کیا جاسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں